You are currently viewing ترک رفع الیدین پر مباحثہ ۔

ترک رفع الیدین پر مباحثہ ۔

2011 میں محدث فورم پر ترک رفع الیدین سے متعلق آفتاب نام کے ایک صاحب سے مباحثہ ہوا تھا ۔ افادہ عام کے لئے اس ویب سائٹ پربھی یہ مباحثہ نقل کیا جارہا ہے۔اخیر میں محدث فورم کالنک بھی شامل کردیا جائے گا جہاں اب بھی یہ تحریریں موجود ہیں ۔
نوٹ:-
آفتاب صاحب کی عبارات جہاں جہاں ہیں وہاں سفید بیگ گراونڈ رکھا گیا ہے ۔اور آفتاب صاحب نے اپنے اعتراضات میں جہاں سنابلی صاحب کی عبارات نقل کی ہیں ان عبارات کو آسمانی نیلے کلر کے بیک گراؤنڈ میں رکھا گیا ہے۔

ایک بار مسجد کوفہ میں امام ابن المبارک رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۔ ابن المبارک رحمہ اللہ رفع الیدین کرتے تھے ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے نماز سے فارغ ہو کر ابن المبارک رحمہ اللہ سے کہا :
ترفع يديک في کل تکبيرة کأنک تريد أن تطير
” آپ نماز کی ہر تکبیر ( اس میں تسمیع بھی شامل ہے یعنی رکوع سے اٹھتے وقت ) میں رفع الیدین کرتے ہیں گویا اڑنا اور پرواز کرنا چاہتے ہیں ۔ “

امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے جواب میں کہا :
ان کنت أنت تطير في الاولي فاني أطير فيما سواها
اگر آپ تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے ارادہ پرواز و اڑان رکھتے ہوں تو میں آپ ہی کی طرح باقی مواقع میں نماز میں پرواز کرنا چاہتا ہوں ۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب سے اس طرح کی بات رفع الیدین کی بابت کہنے سے ہمیشہ کے لیے خاموش رہے ۔
امام وکیع نے امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب کی بڑی تحسین و تعریف کی ۔
السنة لعبداللہ بن احمد بن حنبل ، ص : 59 ، تاویل مختلف الحدیث لابن قتیبہ ، ص : 66 ، سنن بیہقی ، ج : 2 ، ص :82 ،  تاریخ خطیب ، ج : 13 ، ص :406  ]

 تنبیہ:
”في كل تكبيرة“ (ہر تکبیرمیں ) سے مراد ہررکوع سے پہلے والی تکبیر ہے اوراس میں تسمیع بھی شامل ہے ۔ جیساکہ بیہقی کی روایت میں ہے:
 …فَإِذَا عَبْدُ اللهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ لَا يَرْفَعُ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لِعَبْدِ اللهِ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تُكْثِرُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ، أَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟…الخ[السنن الكبرى للبيهقي 2/ 117 رقم 2538]

اس روایت میں ’’كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ‘‘ سے کل تکبیرۃ کی تشریح ہوجاتی ہے یعنی ’’ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ‘‘ سے ہررکعت میں قبل الرکوع اوربعدالرکوع والا رفع الیدین مراد ہے۔نیز اس روایت میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبانی ابن المبارک رحمہ اللہ کا جو عمل بیان ہو اہے وہ ’’ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ‘‘ کے الفاظ سے نہیں بلکہ ’’ رَأَيْتُكَ تُكْثِرُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ‘‘ کے الفاظ سے ، اس سے ’’ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ‘‘ کی تشریح بخوبی ہوجاتی ہے۔

یہاں‌ امام ابن البارک رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ کو جو مسکت جواب عنایت کیا ہے وہ دراصل رفع الیدین کے خلاف اٹھائے جانے والے ہر شبہے کا جواب ہے۔
آج امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پیروکار اس عظیم سنت کے خلاف جو بھی اعتراضات پیش کرتے ہیں ان سب کا جواب عبداللہ ابن المبارک رحمہ اللہ کی مذکورہ بات میں‌ موجود ہے جس پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی مبہوت ہوکررہ گئے تھے۔

ذیل مین‌ تارکین رفع الیدین کے کچھ اعتراضات پیش کئے جاتے ہیں جوبالکل ان کے امام ہی کے پیش کردہ اعتراض سے ملتے جلتے ہیں ، نیز ان سب کا جواب بھی امام ابن المبارک رحمہ کے مسکت جواب ہی کی طرح ہے:
ملاحظہ ہو:

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
صحیح‌ مسلم کی حدیث میں‌ رفع الیدین کو سرکش گھوڑوں‌ کے دم سے تشبیہ دی گئی ہے
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
تو پھر تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے بارے میں‌ کیا خیال ہے؟

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
کوئی ایسی حدیث پیش کریں‌ جس میں‌ یہ لکھا ہو کی تاحیات رفع الیدین کرناہے۔
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
کوئی ایسی حدیث پیش کریں‌ جس میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین سے متعلق تا حیات کی صراحت ہو ۔

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
کوئی ایسی حدیث پیش کریں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہوکہ رفع الیدین کرو۔
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
کوئی ایسی حدیث پیش کریں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہوکہ تکبیرتحریمہ کے وقت رفع الیدین کرو۔

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
اگرکوئی رفع الیدین نہ کرے تو اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
اگر کوئی تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین نہ کرے تو اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں ۔

✿ اعتراض‌ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
رفع الیدین واجب فرض ہے یا سنت ؟
◄ جواب امام ابن المبارک رحمہ اللہ کی زبان میں‌:
تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین واجب فرض ہے یا سنت؟

فماکان جوابکم فهوجوابنا

 ①  اعتراض از: آفتاب

جناب کفایت اللہ صاحب ! آپ نے تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین اور رکوع کے وقت رفع الیدین کو ایک جیسا سمجھ لیا جبکھ رکوع کے وقت رفع الیدین کے متروک ھونے کی احادیث موجود ھیں اور تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے متروک ھونے کی میری ناقص علم کے مطایق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

تحریر آفتاب:
جناب کفایت اللہ صاحب ! آپ نے تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین اور رکوع کے وقت رفع الیدین کو ایک جیسا سمجھ لیا 

محترم آفتاب صاحب !
تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین اور رکوع کے وقت رفع الیدین کو ایک جیسا سمجھنے میں، میں پہلاشخص نہیں ہوں بلکہ جیسا کہ اوپرآپ دیکھ سکتے ہیں کہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے بھی تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین اور رکوع کے وقت رفع الیدین کو ایک جیسا سمجھاہے جس پر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔
مجھے حیرت ہے کہ آج کے تارکین رفع الیدین کی فقاہت کیا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی فقاہت سے بھی بڑھ گئی؟ جوبات آپ کہہ رہے ہیں کیاوجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وہی بات نہیں کہہ سکے ؟

بہرحال آپ کا یہ کہنا کہ :

تحریر آفتاب:
رکوع کے وقت رفع الیدین کے متروک ھونے کی احادیث موجود ھیں اور تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے متروک ھونے کی میری ناقص علم کے مطایق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔

توعرض ہے کہ :
رکوع کے وقت بھی رفع الیدین کے متروک ہونے کی میری ناقص علم کے مطابق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔
اوراس ضمن میں جن صحیح احادیث کو پیش کیاجاتاہے ، اگراس سے استدلال درست سمجھ لیا جائے تو ان صحیح احادیث میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے متروک ہونے کی بھی دلیل ہے ۔

مثلا ترک رفع الیدین ایک صحیح حدیث صحیح مسلم سے پیش کی جاتی ہے،ملاحظہ ہو:
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ»
جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تم کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں جیسا کہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون رکھا کرو فرماتے ہیں دوبارہ ایک دن تشریف لائے تو ہم کو حلقوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تم کو متفرق طور پر بیٹھے ہوئے دیکھتا ہوں پھر ایک مرتبہ ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا تم صفیں نہیں بناتے جیسا کہ فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں بناتے ہیں فرمایا کہ پہلی صف کو مکمل کیا کرو اور صف میں مل مل کر کھڑے ہوا کرو۔[صحيح مسلم (1/ 322) رقم 430]

جناب غورکریں اس حدیث میں اگررکوع والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل ہے تو تکبیرتحریمہ کے بھی ترک کی دلیل ہے کیونکہ اس حدیث میں رکوع والے رفع الیدین کی تخصیص موجود نہیں ہے، پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ تکبیرتحریمہ والے رفع الدین کے ترک کی دلیل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ہمیں یہ تسلیم ہے کہ تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل موجودنہیں ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے نزدیک یہ بھی مسلم ہے کہ رکوع والے رفع الیدین کے ترک پربھی کوئی دلیل نہیں ہے۔
آپ حضرات رکوع والے رفع الیدین کے ترک پر جوصحیح احادیث پیش کرتے ہیں ان سے استدلال درست مان لیا جائے تو ان سے تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین بھی متروک ثابت ہوگا، جیساکہ اوپر وضاحت کی گئی۔

ایک اور صحیح حدیث ملاحظہ جسے تارکین رفع الیدین صحیح بخاری سے نقل کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اس میں رکوع والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل ہے:
۔۔۔فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (١) رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، (٢)وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، (٣)فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلاَ قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ القِبْلَةَ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ اليُسْرَى، وَنَصَبَ اليُمْنَى، (٤)وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ اليُسْرَى، وَنَصَبَ الأُخْرَى وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ
ابوحمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساعدی بولے کہ مجھے تم سب سے زیادہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز یاد ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ(١) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر (تحریمہ) پڑھی، تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں شانوں کی مقابل تک اٹھائے، (٢)اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما لئے، اپنی پیٹھ کو جھکا دیا، (٣)جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر (رکوع سے) اٹھایا تو اس حد تک سیدھے ہوگئے کہ ہر ایک عضو (کا جوڑا) اپنے اپنے مقام پر پہنچ گیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو دونوں ہاتھ اپنے زمین پر رکھ دیئے، نہ ان کو بچھائے ہوئے تھے، اور نہ سمیٹے ہوئے تھے، اور پیر کی انگلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ کرلی تھیں، پھر جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں بیٹھے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھے، اور داہنے پیر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑا کر لیا، (٤)جب آخری رکعت میں بیٹھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں پیر کو آگے کر دیا، اور دوسرے پیر کو کھڑا کرلیا، اور اپنی نشست گاہ کے بل بیٹھ گئے
[صحيح البخاري:1 /165 رقم828 ]

اس حدیث سے بھی رکوع والے رفع الیدین کے ترک پر استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث میں نماز کے تمام طریقوں کا ذکرنہیں ہے تو کیا نماز کی جن جن چیزوں کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہے انہیں متروک مان لیاجائے؟
صرف ایک چیز کی وضاحت کرتاہوں بخاری کی اس حدیث میں جس طرح صرف تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کا ذکر ہے ٹھیک اسی طرح سے اس حدیث میں صرف تکبیرتحریمہ والی تکبیرہی کا ذکربھی ہے ۔
میں نے حدیث کے متن کے اندر چار مقامات پر بالترتیب نمبرڈالے ہیں ان چاروں میں سے صرف پہلے مقام تکبیرکا ذکر ہے اوربقیہ مقامات پر جس طرح رفع الیدین کا ذکرنہیں ہے اسی طرح تکبیرکایا اس کے قائم مقام تسمیع کا بھی ذکر نہیں ہے۔
توکیا یہ کہہ دیا جائے کہ بقیہ رفع الیدین کے ساتھ بقیہ تکبیرات بھی متروک ہوگئی ہیں؟

یادرہے کہ بخاری کی یہی حدیث ابوداؤد میں موجود ہے اوراس میں دیگررفع الیدین کا بھی ذکر ہے اوردیگرتکبیرات کا بھی ذکر ہے ملاحظہ ہو:
۔۔۔قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَلِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: ” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (١)إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا،(٢) ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، (٣)ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، (٤)ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ ” ، قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ابوحمید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق میں تم میں سے سب سے زیادہ واقفیت رکھتا ہوں صحابہ نے کہا وہ کیسے؟ واللہ تم ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی تم ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے ابوحمید نے کہا ہاں یہ درست ہے صحابہ نے کہا اچھا تو پھر بیان کرو ابوحمید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(١) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اعتدال کے ساتھ اپنے مقام پر آجاتی اس کے بعد قرات شروع فرماتے (٢)پھر (رکوع) کی تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرتے اور رکوع میں دونوں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے اور پشت سیدھی رکھتے سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ اونچا رکھتے۔(٣) پھر سر اٹھاتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ  کہتے۔ پھر سیدھے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے (سجدہ کرتے) اور (سجدہ میں) دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے پھر (سجدہ سے) سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھتے اور سجدہ کے وقت پاؤں کی انگلیوں کو کھلا رکھتے پھر (دوسرا) سجدہ کرتے اور اللہ اکبر کہہ کر پھر سجدہ سے سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر آجاتی (پھر کھڑے ہوتے) اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے(٤) پھر جب دو رکعتوں سے فارغ ہو کر کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور مونڈھوں تک دونوں ہاتھ اٹھاتے جس طرح کہ نماز کے شروع میں ہاتھ اٹھائے تھے اور تکبیر کہی تھی پھر باقی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ جب آخری سجدہ سے فارغ ہوتے یعنی جس کے بعد سلام ہوتا ہے تو بایاں پاؤں نکالتے اور بائیں کولھے پر بیٹھتے (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا تم نے سچ کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔[سنن أبي داود :1 /194 رقم 730 واسنادہ صحیح]

اس حدیث میں بھی ہم نے متن کے اندر چار مقامات پر بالترتیب نمبرڈالے ہیں ان چاروں میں پہلے مقام کی طرح رفع الیدین کا بھی ذکر ہے اورتکبیریا تسمیع کا بھی ذکرہے، تکبیرکے ذکر والے الفاظ کو ہم نے لال رنگ سے ملون   کیا ہے اوررفع الیدین کے ذکروالے الفاظ کو ہرے رنگ سے ملون   کیاہے۔

معلوم ہوا کہ اس صحیح حدیث میں بھی تکبیرتحریمہ کے علاوہ والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل نہیں ہے، اوراگراس جیسی احادیث میں واقعی ترک کی دلیل ہے تو لیجئے ہم اسی جیسی ایک ایسی صحیح حدیث پیش کرتے ہیں جس میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل بھی موجود ہے ملاحظہ ہو:
صحیح بخاری میں ہے:
۔۔۔ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ” كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ مِنَ المَكْتُوبَةِ، وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلاَةِ “، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے فرض ہو یا کوئی اور رمضان میں (بھی) اور غیر رمضان میں (بھی) ، پس جب کھڑے ہوتے تھے تکبیر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تھے تکبیر کہتے، پھر سجدہ کرنے سے پہلے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے اس کے بعدرَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے، اس کے بعد جب سجدہ کرنے کے لئے جھکتے، اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے، تکبیر کہتے۔ پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تکبیر کہتے، پھر جب سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے ، تکبیر کہتے، پھر جب دو رکعتوں میں بیٹھ کر اٹھتے، تکبیر کہتے، (خلاصہ یہ کہ) اپنی ہر رکعت میں اسی طرح کرکے نماز سے فارغ ہوجاتے، اس کے بعد جب نماز ختم کر چکتے تو کہتے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بلاشبہ میں تم سب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں، بلا شبہ آپ کی نماز اس وقت تک بالکل ایسی ہی تھی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو چھوڑا[صحيح البخاري:1 /159رقم803]

غورفرمائیں اس صحیح حدیث میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کا بھی ذکرنہیں ہے تو کیا آپ کے اصول کے مطابق تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر صحیح حدیث ہے یا نہیں؟
لطف تو یہ ہے کہ آپ کے اصول کے مطابق تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر دلالت کرنے والی اس حدیث میں یہ صراحت بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل تاحیات تھا اس حدیث کے اخیرمیں دیکھیں آپ کو یہ الفاظ نظر آئیں گے:
إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا

کیا خیال ہے تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر آپ کے اصول کے مطابق یہ کیسی زبردست دلیل ہے جس میں تاحیات اور آخری وقت کی بھی صراحت ! اس کے باوجود بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ :

تحریر آفتاب:
تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے متروک ھونے کی میری ناقص علم کے مطایق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔

بھائی صاحب کیا یہ صحیح حدیث نہیں ہے؟
اگرآپ کہیں کہ اس صحیح حدیث سے تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر استدلال درست نہیں ہے تو یہی تو ہم بھی کہتے ہیں کی رکوع کے بعد والے رفع الیدین کے ترک پر بھی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے اورجن صحیح احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے ان سے استدلال درست نہیں ہے جیسا کہ وضاحت کی گئی ۔

اس تفصیل سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کی جوحیثیت ہے بجنسہ وہی حیثیت رکوع والے رفع الیدین کی بھی ہے۔
امید ہے کہ اتنی وضاحت کافی ہوگی۔

 ② اعتراض از: آفتاف

محترم کفایت الله بھائی آپ نے واقعی تفصیل سے جواب دیا ۔ لیکن میں نے تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین کو متروک کہا اس کی تفصیل کچھ یوں ہے
1-عن عبد الله بن مسعود ، أنه قال : ألا أصلي لكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فصلى ، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة
(اس روایت کو ترمذی ، ابو داؤد ، نسائی کے علاوہ کئی حدیث کی دوسری کتب نے بھی نقل کیا ہے )

2- صحیح مسلم کی روایات جس کا آپ نے حوالہ دیا اور اس میں نماز میں سکون اختیار کا کہا گیا وہاں لفظ “في الصلاہ ” السکون عند افتتاح الصلاہ نہیں تکبیر تحریمہ عند افتتاح الصلاہ ہے اور رکوع والا رفع الیدین فی الصلاہ ہے ۔ اس لیئے اس سے مراد تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین نہیں ۔
ویسے آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت صحابہ کون سا والا رفع الیدین کررہے تھے جو اس حدیث میں منع کیا کیا ہے۔
3-عن سالم عن أبیہ: قال رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا افتتح الصلاة رفع یدیہ حتی یحاذي بہما وقال بعضہم: حذو منکبیہ وإذا أراد أن یرکع وبعد ما یرفع رأسہ من الرکوع لا یرفعھما (صحیح أبوعوانة ، مسند حمیدی )

اس کس علاوہ کئی احادیث ہیں جو صحابہ کا عمل بھی ترک رفع الیدین پر دلالت کرتی ہیں ۔
واضح رہے کہ میری تحقیق کے مطابق رفع الیدین اور ترک رفع الیدین میں اختلاف صرف افضلیت کا ہے نہ حلال و حرام کا۔

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

محترم آفتاب بھائی سب سے پہلے آپ اپنے دعوے پر نظر کرلیں:

تحریر آفتاب:
جناب کفایت اللہ صاحب !رکوع کے وقت رفع الیدین کے متروک ھونے کی احادیث موجود ھیں۔

آپ نے رکوع والے رفع الیدین کے متروک ہونے کا دعوی کیا ہے ، اورمتروک کا معنی ہوتا ہے جس عمل کو ترک کردیا گیاہویعنی اب اس پرعمل نہیں ہوسکتا ، جیساکہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتاہے:
عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: صَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ كَفَّيْهِ، وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، وَضَرَبَ أَيْدِيَنَا، فَفَعَلْنَا ذَلِكَ، ثُمَّ لَقِيَنَا عُمَرُ بَعْدُ، فَصَلَّى بِنَا فِي بَيْتِهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقْنَا كَفَّيْنَا كَمَا طَبَّقَ عَبْدُ اللَّهِ، وَوَضَعَ عُمَرُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَا هَذَا؟» فَأَخْبَرْنَاهُ بِفِعْلِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ كَانَ يُفْعَلُ ثُمَّ تُرِكَ» [مصنف عبد الرزاق الصنعاني : 2 /152]
امام بیہقی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذکورہ عمل سے متعلق فرماتے ہیں:
قال أبو معاوية هذا قد ترك رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب عن أبي معاوية
[السنن الكبرى ت :محمد عبد القادر عطا 2/ 83]
شیخ شعيب الأرنؤوط فرماتے ہیں:
وقال البيهقي بإثره: وقال أبو معاوية: هذا قد ترك: يعني التطبيق الذي جاء في خبر ابن مسعود هذا قد نسخ.
[صحيح ابن حبان  5 /193]
معلوم ہوا کہ کہ متروک کا مطلب ہوتاہے جس پر عمل موقوف ہوچکا ہے بالفاظ دیگرجو منسوخ ہوچکاہے۔

یہ تو آپ کے دعوے کی وضاحت ہوئی اب آپ کی دلیل دیکھتے ہیں:

تحریر آفتاب:
1- عن عبد الله بن مسعود ، أنه قال : ألا أصلي لكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فصلى ، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة
(اس روایت کو ترمذی ، ابو داؤد ، نسائی کے علاوہ کئی حدیث کی دوسری کتب نے بھی نقل کیا ہے )

اولا:

محترم آفتاب صاحب اب آپ بتائیے کہ اس حدیث میں رکوع والے رفع الیدین کے متروک ہونے کی دلیل کہاں ہے؟؟؟ اس میں تو صرف یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے ایک بار رفع الیدین والی نماز پڑھ کربتلائی ہے ، اس سے بقیہ رفع الیدین کا ترک کہاں لازم آیا؟؟؟
آپ کومعلوم ہونا چاہے کہ نمازظہر سے قبل کتنی رکعات سنت مؤکدہ ہیں اس سلسلے میں ایک حدیث میں آتاہے کہ چاررکعت، اورایک دوسری حدیث میں آتاہے کہ دورکعت ، توکیا اس دوسری حدیث سے آپ یہ نتیجہ اخذکریں گے کہ ظہرسے قبل چاررکعت پڑھنا متروک ہے صف دو ہی پڑھیں گے؟؟؟
جناب اس طرح کی احادیث سے متروک کا دعوی ثابت نہیں ہوتا کوئی ایسی روایت تلاش کریں جس میں متروک کی دلیل ہو۔

ثانیا:

بھائی آفتاب صاحب آپ کی پیش کردہ دلیل آپ کے دعوی سے غیرمتعلق ہونے کے ساتھ ساتھ ٍضعیف بھی ہے، ہم اس کے ضعف کی وجوہات لکھنے بیٹھ جائیں تو ایک مستقل رسالہ تیار ہوجائے گا لہٰذا تفصیل میں نہ جاتے ہوے چند چیزوں کی وضاحت کرتے ہیں:

(الف)

ناقدین نے اس روایت پر جرح مفسرکی ہے اورجرح مفسرکے ازالہ میں تعدیل مفسرپیش کرنا لازم ہے وہ بھی جمہورکی۔
واضح رہے کہ کسی حدیث پر ناقدین اگر جرح کریں تو یہ روایت کے ضعف کی دلیل ہے اوراگرتضعیف کریں تو دلیل سے خالی ایک حکم ہے بس، بہت سارے لوگ ان دونوں میں فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے اورجرح کو تضعیف سمجھ کراس کے مقابلے میں تصحیح نقل کرکے بلادلیل جرح کو رد کردیتے ہیں حالانکہ کی جرح کی تردید تعدیل ہی سے ہوسکتی ہے نہ کہ تصحیح سے۔
اب ذیل میں اس روایت پر ناقدین کی جرح مفسرملاحظہ ہو:
ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
وسألتُ أبِي عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ الثّورِيُّ ، عن عاصِمِ بنِ كُليبٍ ، عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ الأسودِ ، عن علقمة ، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد.قال أبِي : هذا خطأٌ ، يُقالُ : وهِم فِيهِ الثّورِيُّ.وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.
[علل الحديث 1 /96 رقم 258]

یہ جرح مفسر ہے امام ابوحاتم نے خاص اس روایت پر کلام کیا ہے اس کے مقابلہ میں آپ جمہور سے اس جرح کا صراحۃ ازالہ پیش کریں محض تصحیح مبہم کافی نہیں ہے۔امام ابوحاتم کے علاوہ دیگرمحدثین نے بھی اس روایت پر جرح مفسرکی ہے۔ 

(ب)

اس روایت کی سند میں سفیان ثوری ہیں جو مشہورمدلس ہیں (عام کتب رجال)۔
اورانہوں نے عن سے روایت کیا ہے۔
علامہ عینی فرماتے ہیں:
وسُفْيَان من المدلسين، والمدلس لَا يحْتَج بعنعنته إِلَّا أَن يثبت سَمَاعه من طَرِيق آخر
عمدة القاري شرح صحيح البخاري [3 /112]

تنبیہ :

سفیان کا عنعنہ مقبول ہے، لیکن ایک روایت جو متواترروایت کے خلاف ہو اس میں ان کے عنعنہ پر اعتراض کیا جاسکتا ہے جب ہم اوثق رواۃ کی مخالفت کرنے والے ثقہ غیرمدلس کی روایت کو رد کردیتے ہیں تو پھر متواتر روایات کی مخالفت میں ایک مدلس کی روایت کیونکر تسلیم کرسکتے ہیں۔

ثالثا:

بفرض محال اگراس روایت کو صحیح مان لیں تویہ رکوع والےرفع الیدین کے ترک کی دلیل نہیں بن سکتی بلکہ اس روایت میں بیان کردہ طریقہ نماز بجائے خود متروک ثابت ہوگا کیونکہ یہ طریقہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے اوران کا بیان کردہ طریقہ نماز صحیح اورصریح احادیث کی رو سے قدیم ہے ، دلیل ملاحظہ ہو:
عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ» قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أَمَرَنَا بِهَذَا يَعْنِي «الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ» [سنن أبي داود :1 /199 رقم 747]

اس حدیث میں عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ جس نماز کا طریقہ بتلارہے ہیں اس میں تطبیق بھی ہے اوریہ عمل احادیث صحیحہ وصریحہ کی روسے پہلے کا عمل ہے اورمنسوخ ہے ۔ اس سے سے ثابت ہوگیا کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نمازی نبوی کا جوطریقہ یا د کررکھا تھا تو پہلے کا تھا ۔

تنبیہ: بعض حضرات جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اتنے دنوں تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیارکی آخرانہیں رکوع والے رفع الیدین کا علم کیسے نہیں ہوسکا؟
ایسے حضرات کی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے علم میں تطبیق کے منسوخ ہونے والی بات کیوں نہ آئی؟ ماکان جوابکم فہوجوابنا۔

اب مذکورہ بات ثابت ہونے کے بعد ہمیں عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کی حدیث ملتی ہے جس میں رکو ع والے رفع الیدین کا ذکرہے اوریہ بھی ثبوت ملتاہے کہ عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ نے نمازنبوی کا جوطریقہ یا د کررکھا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخیر دور کا ہے ، کیونکہ اول تو عبداللہ ابن عمر کم عمرصحابی ہیں دوم درج ذیل حدیث ملاحظہ ہو:
عبد الله بن عمر، قال: صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم العشاء في آخر حياته، فلما سلم قام، فقال: «أرأيتكم ليلتكم هذه، فإن رأس مائة سنة منها، لا يبقى ممن هو على ظهر الأرض أحد» [صحيح البخاري : 1 /34 رقم116 ]

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے نمازنبوی کا جوطریقہ اخذکیا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دورکا طریقہ تھا ، اسی طرح صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ بھی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے آخری دوروالا نماز کا طریقہ سیکھا ہے جیساکہ میں گذشتہ پوسٹ میں صحیح بخاری سے اس کی دلیل دے چکا ہوں ، اورابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نماز نبوی میں رکوع والا رفع الیدین ذکر کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ رکوع والا رفع الیدین حیات طیبہ کے آخری دورکا ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ آفتاب بھائی نے رکوع والے رفع الیدین کے متروک ہونے کی جو دلیل دی ہے وہ بجائے خود متروک ہے۔

تحریر آفتاب:
2- صحیح مسلم کی روایات جس کا آپ نے حوالہ دیا اور اس میں نماز میں سکون اختیار کا کہا گیا وہاں لفظ “في الصلاہ ” السکون عند افتتاح الصلاہ نہیں تکبیر تحریمہ عند افتتاح الصلاہ ہے اور رکوع والا رفع الیدین فی الصلاہ ہے ۔ اس لیئے اس سے مراد تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین نہیں ۔

اولا:

اگرمذکورہ روایت میں ’’سکون عندافتتاح الصلاۃ‘‘ کی صراحت نہیں ہے تو کیا ’’سکون عندالرکوع‘‘ کی صراحت ہے؟؟؟

ثانیا:

مذکورہ حدیث میں ’’فی الصلاۃ ‘‘ کا لفظ ہے تو کیا تکبیرتحریمہ ’’فی الصلوٰۃ ‘‘ میں داخل نہیں ہے، ذرا درج احادیث غورسے پڑھیں پھر بتلائیں کہ ’’تکبیرتحریمہ‘‘ فی الصلاۃ میں داخل ہے یا نہیں ؟؟

عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ “ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ “، وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مُخْتَصَرًا [صحيح البخاري : 1 /148 رقم739]۔

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهُ ” رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ، – وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ – ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ، فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا، سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ “
[صحيح مسلم: 1 /301 رقم401]

مذکورہ دونوں احادیث سے معلوم ہواکہ کہ تکبیرکے ساتھ ہی مصلی نماز میں داخل ہوجاتا ہےیعنی تکبیرنماز سے خارج کوئی الگ چیز ہرگزنہیں بلکہ یہ بھی فی الصلاۃ میں شامل ہے۔
اوردرج ذیل حدیث تو بہت ہی واضح طورپربتلاتی ہے کہ تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین نماز کے اندر کارفع الیدین ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ – صلى الله عليه وسلم – كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَرُبَّمَا، قَالَ: حَذَا أُذُنَيْهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ.
[مستخرج أبي عوانة: 2/ 174 رقم 1261 اسنادہ صحیح، قتادہ صرح بالسماع عندالنسائی فی الکبری(1 /459) وصرح بالتحدیث عندالطبرانی فی المعجم الكبير (19 /284)]

اس حدیث میں غور کریں پہلے ہے ’ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ كَبَّرَ،‘‘ اس کے بعد ہے ’’ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین ہر حال میں نماز کے اندر ہی داخل ہے۔

ثالثا:

اگرتکبیر نماز میں داخل نہیں ہے تو پھر سلام کوبھی نماز سے خارج ہی ماننا پڑھے گا ایسی صورت میں مذکورہ روایت کا داخل نماز سے کوئی تعلق رہ ہی نہیں جائے گا کہ کیونکہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ مذکورہ حدیث مسلم میں بوقت سلام والے رفع الیدین سے منع کیا گیاہے ، مثلا ملاحظہ ہو یہ حدیث:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ» (المعجم الكبير للطبراني :2/ 205 رقم 1836 واسنادہ صحیح)

ملون ونمایاں الفاظ پر غورکریں ، رفع الیدیں کی صراحت ہے اوراگے یہ بھی صراحت ہے کہ یہ سلام والا رفع الیدین تھا اب تو افتاب بھائی ہی کے اصول سے اس حدیث کا داخل نماز سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا ۔

تنبیہ: یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے منع رفع الیدین والی حدیث کے بالکل بعد ہی میں ہے لیکن مسلم میں موجود اس دوسری روایت پر احناف یہ حجت کرتے ہیں کہ اس میں سلام کی صراحت تو ہے لیکن رفع الیدین کے الفاظ نہیں ہیں ، اس لئے میں نے طبرانی سے ایک ایسی روایت نقل کی ہے جس سلام اور رفع الیدین دونوں کی صراحت ہے۔

تحریر آفتاب:
ویسے آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت صحابہ کون سا والا رفع الیدین کررہے تھے جو اس حدیث میں منع کیا کیا ہے۔

میں نے ضمنا اپنے اس مضمون کا لنک دے دیا تھا جس میں میں نے وضاحت ہے کے اس سے مراد اخری تشہد میں بوقت سلام والارفع الیدین مراد ہے اور ابھی اوپر ’’ثالثا ‘‘ کے تحت بھی اس کی وضاحت ہوچکی ہے، مزید تفصیل کے لئے درج ذیل لنک دیکھیں:
کیا صحیح مسلم میں مسنون رفع الیدین کے ترک کی دلیل ہے؟

تحریر آفتاب:
3-عن سالم عن أبیہ: قال رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا افتتح الصلاة رفع یدیہ حتی یحاذي بہما وقال بعضہم: حذو منکبیہ وإذا أراد أن یرکع وبعد ما یرفع رأسہ من الرکوع لا یرفعھما (صحیح أبوعوانة ، مسند حمیدی )

محترم آفتاب !

اولا:

یہ روایت بھی آپ کے دعوی کی دلیل نہیں ہے کیونکہ آپ کا دعوی متروک کا ہے اورعبداللہ ابن عمر کی اثبات رفع الیدین والی روایت آپ کو بھی تسلیم ہے ، لہٰذا یہ محرف روایت بھی آپ کے دعوی کی دلیل نہیں ہے۔

ثانیا:

یہ بہت بڑی جسارت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں تحریف کی جائے ، اہل حدیث کی طرف سے بار بار یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ آپ کے اکابرنے جہنم کی وعید سے بے خبر ہوکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسا فعل منسوب کیا ہے جس کا صدور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگزنہیں ہوا ہے۔
غرض یہ کہ صحیح ابوعوانہ اورمسندحمیدی میں عصرحاضر کے دیوبندیوں نے تحریف کر ڈالی ہے، اس تحریف کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ عصرحاضر سے قبل کسی بھی حنفی عالم اورتارک رفع الیدین نے اس حدیث کو ترک رفع الیدین پردلیل نہیں بنایاہے۔
اس دونوں کتاب کے جس قدر بھی قدیم مخطوطے دستیاب ہیں سب میں مذکورہ حدیث رفع الیدین کے اثبات کے ساتھ ہی ہے۔

خلاصہ کلا م یہ کہ آپ کے اس د عوی پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ رکوع والا رفع الیدین منسوخ ہے۔

تحریر آفتاب:
اس کس علاوہ کئی احادیث ہیں جو صحابہ کا عمل بھی ترک رفع الیدین پر دلالت کرتی ہیں ۔

کسی ایک بھی صحابی سے بسندصحیح ترک رفع الیدین ثابت نہیں ہے،آپ کا دعوی بلا دلیل ہے۔

تحریر آفتاب:
واضح رہے کہ میری تحقیق کے مطابق رفع الیدین اور ترک رفع الیدین میں اختلاف صرف افضلیت کا ہے نہ حلال و حرام کا۔

آفتاب بھائی بڑی حیرانی ہوئی آپ کی اس تحقیق سے پہلے آپ نے یہ دعوی کیا کہ رکوع والا رفع الیدین متروک ہے پھر اس پردلائل دئے اور آخرمیں اشارۃ یہ کہہ رہے ہیں کہ رکوع والا رفع الیدین مفضول ہے ، یہ عجیب تضاد دہے۔
جناب بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا متروک ہے تو کیا آپ اسے حرام نہ کہتے ہوئے صرف مفضول مانتے ہیں ؟؟؟

③ اعتراض از: آفتاف

میری سب سے درخواست ہے کہ اس تھریڈ کو رفع الیدین کے متعلق ہی رہنے دیں اور باقی اختلافی مسائل کے لیئے نیا تھریڈ شروع کریں
اب آتا ہوں محترم کفایت اللہ صاحب کی پوسٹ کی طرف جنہوں نے میرے اعتراضات کے مفصل جوابات دیے
میری پہلی دلیل تھی
1- عن عبد الله بن مسعود ، أنه قال : ألا أصلي لكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فصلى ، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة
(اس روایت کو ترمذی ، ابو داؤد ، نسائی کے علاوہ کئی حدیث کی دوسری کتب نے بھی نقل کیا ہے )
کفایت اللہ صاحب کا جواب تھا
محترم آفتاب صاحب اب آپ بتائیے کہ اس حدیث میں رکوع والے رفع الیدین کے متروک ہونے کی دلیل کہاں ہے؟؟؟ اس میں تو صرف یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے ایک بار رفع الیدین والی نماز پڑھ کربتلائی ہے ، اس سے بقیہ رفع الیدین کا ترک کہاں لازم آیا؟؟؟
میرا جواب
اگر رفع الیدین نماز کا حصہ ہوتا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عمل کو آخری عمر تک کیا ہوتا تو عبد اللہ بن مسعود کبھی بھی بغیر رفع الیدین والی نماز نہ پڑہاتے ۔ اگر ترک رفع الیدین کے ساتھ نماز کا طریقہ بیان کرنا متروک کی دلیل نہیں تو بھر رفع الدیدن کی روایت ذکر کرنے پر ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ رفع الیدین کی دلیل نہیں ۔ یہ تو میں تو نہ مانوں والی بات ہے۔
دوسرا آپ نے اس حدیث کو ضعیف بتایا
جبکہ اس حدیث کو امام ترمذی ،علامہ ابن حزم ظاہری نے صحیح قرار دیا ہے ۔
آپ نے اس حدیث پر امام ابو حاتم کا کلام ذکر کیا
ان کی جرح مفسر کی حیثیت کچھ یوں ہے
آپ نےامام ابو حاتم کا قول ذکر کیا
انہوں نے کہا کہ وهِم فِيهِ الثّورِيُّ جبکہ یہی امام الثوري ہیں جن کی روایت کو آمیں الجہر میں نہ صرف قبول کیا گیا بلکہ دوسرے راوی پر ترجیح دی گئی ۔ کیا یہ مسلک پرستی نہیں ۔ کیا یہ ہر صورت میں اپنا مسلک ثابت کرنا نہیں ۔ ایک جگہ ایک راوی کی حدیث کو صحیح مانا جائے اور دوسری جگہ اس کی روایت کو ضعیف کہا جائے
ملاحضہ ہو اہلحدیث حضرات کی یہ تحقیق ۔
مقتدی کا آمین بلند آواز سے کہنا
یہاں سفیان الثوری کی حدیث سے دلیل کیوں پکڑی گئی؟
یہاں ویسے بھی عبد اللہ بن ادریس اور سفیان الثوری کی احادیث دو مختلف موضوعات پر ہیں ۔ عبد اللہ بن ادریس کی حدیث مسئلہ تطبیق اور سفیان ااثوری کی حدیث ترک رفع الیدین کے متعلق ہے ۔ ان دو حدیثوں کا سیاق خود بتا رہا ہے کہ یہ دو مستقل حدیثیں ہیں اور سرے سے ان میں کوئی مخالفت نہیں کہ ایک کو صواب اور دوسرے کو خطا قرار دی جائے

دوسری دلیل
دوسری دلیل میں نے صحیح مسلم کی پیش کی اور اس میں الفاظ اسکنوا فی الصلاہ سی بتایا کہ نماز میں رفح الیدین سے منع کیا کیا ۔ یہاں في الصلاہ کہا گیا نہ کہ عند افتتاح الصلاہ کہا گیا۔
کفایت اللہ صاحب نے اس کا مطب یہ لیا کہ نماز کا ابتدائی حصہ بھی نماز میں داخل ہے۔
جناب کسی بھی چیز کا اتدائی اور آخری حصہ کی حیثیت الگ ہوتی ہے ۔ جیسے اگر کوئی کہے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگاو ایک شخص نے جب ٹرین اسٹیشن سے چلی تو چھلانگ لگائی اور دوسرے شخص نے ٹرین کی اسپیڈ کے دوران چھلاگ لکائی تو دونوں کو نقصان پہچنے کی کیفیت مختلف ہوگی جبکہ دونوں نے چلتی ٹرین سے چھلاگ لگائی ۔ ایک نے ابتداء میں دو سرے نے بیچ میں۔ تو دخول في العمل اور فی العمل دونوں کے احکامات الگ ہوتے ہیں۔
دوسرا میں نے پوچھا کہ اس وقت صحابہ کون سا والا رفح الیدین کررہے تھے جس سے منع کیا گیا۔
کفایت اللہ صاحب نے دوسری روایت سے ثابت کرنا چاہا کہ وہ سلام کے وقت والا رفع الیدین ہے ۔ جبکہ صحیح مسلم اسکنوا فی الصلاہ والی حدیث اور سلام کے وقت والی حدیث میں بہت فرق ہے ۔
صحیح حدیث والی حدیث میں صحابہ نماز پڑہ رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے جبکہ آپ والی حدیث میں باجماعت نماز کا ذکر ہے ۔
دو الگ واقعات کو تڑوڑ مڑوڑ کربغیر دلیل کہ ایک حدیث ثابت کرنا صرف دل کی تسلی کہ لیئے ہو سکتا کسی کو قائل کرنے کے لئیے نہیں ۔
اس کہ علاوہ آپ نے عبداللہ بن عمر کے حوالہ سے رفع الیدین ثابت کرنے کی کوشش کی اس کی بھی تحقیق ملاحظہ فرمایں
عبد اللہ بن عمر رفع الیدین نہیں کرتے تھے
مصنف ابن ابی شیبہ کی دو روایات ہیں ایک میں حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہ کے شاگر امام مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کرتے تھے اور کسی اور جگہ نہیں کرتے تھے ۔ اور دوسری روایت میں اسود کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی اور انہوں نے صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کیا
اس کا مطلب ہے عبداللہ بن عمر رفع الیدین ترک کرجکے تھے

کچھ مذید ملاحظہ فرمائین
ترکِ رفع پر غیر مقلدین کے گھر سے دلایل:۔
غیرمقلدین جو ہر وقت یہ شور مچاتے ہیں کہ جو رفع یدین نہ کرے اسکی نماز نہیں ہوتی آیے دیکھتے ہیں کہ انکے بڑے اس بارے میں کیا کہتے ہیں ۔

مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلوی اپنے فتاویٰ نذیریہ جلد1 صفحہ 141 میں فرماتے ہیں
کہ رفع یدین میں جھگڑاکرنا تعصب اور جہالت کی بات ہے ، کیونکہ آنحضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دونوں ثابت ہیں ، دلایل دونوں طرف ہیں۔

نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالی جماعتِ غیر مقلدین کے بڑے اونچے عالم اور مجدد وقت تھے ، ان کی کتاب روضہ الندیہ غیر مقلدین کے یہاں بڑی معتبر کتاب ہے، نواب صاحب اس کتاب میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب سے نقل کرتے ہوے فرماتے ہیں۔
۔”رفع یدین و عدم رفع یدین نماز کے ان افعال میں سے ہے جن کو آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کبھی کیا ہے اور کبھی نہیں کیا ہے ، اور سب سنت ہے ، دونوں بات کی دلیل ہے ، حق میرے نزدیک یہ ہے کہ دونوں سنت ہیں۔۔۔(صفحہ 148)”۔

اور اسی کتاب میں حضرت شاہ اسماعیل شہید کا یہ قول بھی نقل کرتے ہیں ولا یلام تارکہ و ان ترکہ مد عمرہ (صفحہ 150)۔ یعنی رفع یدین کے چھوڑنے والے کو ملامت نہیں کی جاے گی اگرچہ پوری زندگی وہ رفع یدین نہ کرے۔

غیر مقلدین کے بڑے اکابر بزرگوں کی ان باتوں سے پتا چلا کہ ان لوگوں کے نزدیک رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں آنحضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور دونوں سنت ہیں، اب سچے اہلحدیث ہونے کا تقاضا یہ تھا کہ یہ حضرات دونوں سنتوں پر عامل ہوتے مگر ان کا عمل یہ ہے کہ ایک سنت پر تو اصرار ہے اور دوسری سنت سے انکار ہے، بلکہ دوسری سنت پر جو عمل کرتا ہے اسکو برا بھلا کہا جاتا ہے ، سنت پر عمل کرنے والوں کو برا بھلا کہنا کتنی بڑی گمراہی ہے ، آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کسی حنفی نے رفع یدین کرنے والوں کو اس کے رفع یدین کرنے پر برا بھلا کہا ہو۔

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

تحریر آفتاب:
میرا جواب: اگر رفع الیدین نماز کا حصہ ہوتا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عمل کو آخری عمر تک کیا ہوتا تو عبد اللہ بن مسعود کبھی بھی بغیر رفع الیدین والی نماز نہ پڑہاتے ۔ اگر ترک رفع الیدین کے ساتھ نماز کا طریقہ بیان کرنا متروک کی دلیل نہیں تو بھر رفع الدیدن کی روایت ذکر کرنے پر ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ رفع الیدین کی دلیل نہیں ۔ یہ تو میں تو نہ مانوں والی بات ہے۔

اولا:

عجیب بات ہے ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت میں نسخ یا دائمی ترک کی دلیل کہاں ہے اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ کبھی کبھار ترک رفع بھی جائز ہے ، یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ترک کا ثبوت لیا جائے اور دیگر صحابہ کی روایت سے مشروعیت کا ثبوت لیا جائے کیونکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں نسخ یا اخیر حیاۃ کی کوئی صراحت نہیں ہے۔
لیکن آپ کا دعو ی نسخ کا ہے اورآپ کے اس دعوی پر یہ حدیث قطعادلیل نہیں بن سکتی اس سے زیادہ سے زیادہ جواز الامرین پر استدلال کیا جاسکتا ہے نہ کہ نسخ یا ترک پر۔

ثانیا

ہم نے یہ بھی تو کہا تھا :
آپ کومعلوم ہونا چاہے کہ نمازظہر سے قبل کتنی رکعات سنت مؤکدہ ہیں اس سلسلے میں ایک حدیث میں آتاہے کہ چاررکعت، اورایک دوسری حدیث میں آتاہے کہ دورکعت ، توکیا اس دوسری حدیث سے آپ یہ نتیجہ اخذکریں گے کہ ظہرسے قبل چاررکعت پڑھنا متروک ہے صرف دو ہی پڑھیں گے؟؟؟
جناب اس طرح کی احادیث سے متروک کا دعوی ثابت نہیں ہوتا کوئی ایسی روایت تلاش کریں جس میں متروک کی دلیل ہو۔
اس کا جواب کون دے گا؟؟؟

ثالثا:

ہماری طرف سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی جاتی ہے تو آپ حضرات شور مچاتے ہیں کہ تاحیاۃ کا لفظ دکھاؤ، ہمیشگی کی صراحت دکھاؤ وغیرہ وغیرہ ، خود اپنی باری میں یہ اصول کیوں فراموش کردیا؟

رابعا:

عبداللہ بن مسود رضی اللہ عنہ وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی تطبیق کرتے تھے حوالہ پہلے پیش کیا جاچکا ہے ، اس بارے میں کیا خیال ہے؟؟؟

تحریر آفتاب:
دوسرا آپ نے اس حدیث کو ضعیف بتایا
جبکہ اس حدیث کو امام ترمذی ،علامہ ابن حزم ظاہری نے صحیح قرار دیا ہے ۔

کیا دلائل کے ساتھ تضعیف کا جواب یہی ہوتا ہے کہ فلاں نے اس کو صحیح کہا ہے ؟ اگر ایسا ہی ہے تو بیسوں محدثین کے حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں جنہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ایسی صورت میں آپ کیا کہیں گے۔

تحریر آفتاب:
آپ نے اس حدیث پر امام ابو حاتم کا کلام ذکر کیا
ان کی جرح مفسر کی حیثیت کچھ یوں ہے
آپ نےامام ابو حاتم کا قول ذکر کیا
انہوں نے کہا کہ وهِم فِيهِ الثّورِيُّ جبکہ یہی امام الثوري ہیں جن کی روایت کو آمیں الجہر میں نہ صرف قبول کیا گیا بلکہ دوسرے راوی پر ترجیح دی گئی ۔ کیا یہ مسلک پرستی نہیں ۔ کیا یہ ہر صورت میں اپنا مسلک ثابت کرنا نہیں ۔ ایک جگہ ایک راوی کی حدیث کو صحیح مانا جائے اور دوسری جگہ اس کی روایت کو ضعیف کہا جائے
ملاحضہ ہو اہلحدیث حضرات کی یہ تحقیق ۔
مقتدی کا آمین بلند آواز سے کہنا
یہاں سفیان الثوری کی حدیث سے دلیل کیوں پکڑی گئی؟

اولا:

محترم امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کو غیر حجت کسی نے نہیں کہا ہے وہ فی نفسہ ثقہ ہیں ، لیکن کبھی کبھار ثقہ سے بھی غلطی ہوجاتی ہے اصول حدیث میں یہ معروف بات ہے، اورجب اہل فن کسی خاص روایت کے بارے میں یہ مفسرجرح کردیں کہ یہاں اس ثقہ راوی کو وہم ہوا ہے تو اہل فن کی یہ بات حجت ہوگی، اسے اسی صورت میں نظر انداز کیا جاسکتا ہے جب دیگر محدثین اس جرح مفسر کی صراحت کے ساتھ تردید کردیں ، آپ کم از کم دو ایسے ثقہ محدثین کے حوالے پیش کریں جنہوں صراحت کے ساتھ یہ کہا ہوں کہ امام سفیان ثوری کو اس روایت میں وہم نہیں ہوا۔

ثانیا:

ہم نے ضعف کا ایک اورسبب پیش کیا تھا سفیان الثوری کا عنعنہ، اس کا آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

تحریر آفتاب:
یہاں ویسے بھی عبد اللہ بن ادریس اور سفیان الثوری کی احادیث دو مختلف موضوعات پر ہیں ۔ عبد اللہ بن ادریس کی حدیث مسئلہ تطبیق اور سفیان ااثوری کی حدیث ترک رفع الیدین کے متعلق ہے ۔ ان دو حدیثوں کا سیاق خود بتا رہا ہے کہ یہ دو مستقل حدیثیں ہیں اور سرے سے ان میں کوئی مخالفت نہیں کہ ایک کو صواب اور دوسرے کو خطا قرار دی جائے

تو کیا آپ کے نزدیک تطبیق کا عمل منسوخ نہیں ہے ؟؟؟

تحریر آفتاب:
دوسری دلیل
دوسری دلیل میں نے صحیح مسلم کی پیش کی اور اس میں الفاظ اسکنوا فی الصلاہ سی بتایا کہ نماز میں رفح الیدین سے منع کیا کیا ۔ یہاں في الصلاہ کہا گیا نہ کہ عند افتتاح الصلاہ کہا گیا۔
کفایت اللہ صاحب نے اس کا مطب یہ لیا کہ نماز کا ابتدائی حصہ بھی نماز میں داخل ہے۔

ذرا ملون الفاظ پر غور کریں آپ نے ’’فی الصلوٰۃ ‘‘ سے استدلال کیا تھا اور ہم نے بھی جوابا ایسی احادیث پیش کی تھیں جن میں تکبیر تحریمہ ولاے رفع الیدین کے لئے بھی ’’فی الصلاۃ ‘‘ کا لفظ استعمال ہے ان احادیث کا آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

تحریر آفتاب:
جناب کسی بھی چیز کا اتدائی اور آخری حصہ کی حیثیت الگ ہوتی ہے ۔

اورپہلے ثابت کیا چکا ہے کہ آپ کی مستدل حدیث مسلم میں ممنوعہ عمل کا تعلق بھی نماز کے آخری حصہ سے ہے، مزید تفصیل آگے بھی آرہی ہے۔

تحریر آفتاب:
جیسے اگر کوئی کہے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگاو ایک شخص نے جب ٹرین اسٹیشن سے چلی تو چھلانگ لگائی اور دوسرے شخص نے ٹرین کی اسپیڈ کے دوران چھلاگ لکائی تو دونوں کو نقصان پہچنے کی کیفیت مختلف ہوگی جبکہ دونوں نے چلتی ٹرین سے چھلاگ لگائی ۔ ایک نے ابتداء میں دو سرے نے بیچ میں۔ تو دخول في العمل اور فی العمل دونوں کے احکامات الگ ہوتے ہیں۔

ابتسامہ۔

اولا:

یہ کیا کہہ رہے ہیں بھائی ؟ کہاں نماز کی رفتار اور کہاں ٹرین کی رفتار؟ دونوں میں بڑا فرق ہے اس فرق کو ملحوظ رکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ مثال خود آپ ہی کے خلاف ہے ، جناب ٹرین کی رفتارشروع میں کم ہوتی ہے مگر بعد میں اس کی رفتار بڑھتی جاتی ہے ، اب آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ کیا نماز بھی اسی طرح کی رفتار ہوتی ہے یعنی شروع میں کم اوربعد میں تیز ہوتی چلی جاتی ہے؟؟؟
محترم نماز میں تعدیل ارکان کا حکم ہے جس کامطلب ہے نماز پوری کی پوری ایک ہی انداز (آپ کے الفاظ میں رفتار) سے پڑھی جاتی ہے پھر تو آپ ہی کی مثال کے مطابق اس کے شروع کا حصہ ہو یا اخیر کا رفتار یکساں رہتی ہے۔

ثانیا:

محترم مذکورہ مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ذرا اپنے نماز وتر والے رفع الیدین کا انجام سوچ لیں ، وترمیں آپ کا رفع الیدین یقنا ایسے وقت میں ہوگا جب آپ کی مثال کے بموجب آپ کی نماز کی رفتار بہت تیز ہوگی ، ایسی صورت میں رفع الیدین کرنے والے کا وہی حشر ہونا چاہئے جو تیز رفتار سے چلتی ہوئی ٹرین سے چھلانگ لگانے والے کا ہوتا۔

ثالثا:

محترم بھائی ! نماز میں رفع الیدین کرنا کیا ٹرین سے چھلانگ لگانے کی طرح ہے ، ابتسامہ مع استغفراللہ ۔
بھائی جی ٹرین سے چھلانگ لگانے کے بعد آدمی ٹرین سے الگ ہوجاتا ہے تو کیا آپ حضرات بھی پہلا رفع الیدین کرکے نماز سے الگ ہوجاتے ہیں ۔

تحریر آفتاب:
دوسرا میں نے پوچھا کہ اس وقت صحابہ کون سا والا رفح الیدین کررہے تھے جس سے منع کیا گیا۔

یہ سوال آپ سے بھی کیا گیا گیا تھا مسلم کی مستدل حدیث میں کون سا رفع الیدین مراد ہے مگر آپ نے بغیر دلیل کے اسے رکوع والا رفع الیدین مان لیا ، آپ سے گذارش ہے کہ اس بات کا ثبوت دیں کہ اس سے مراد رکوع والا رفع الیدین ہے ۔
واضح رہے کہ دعاء کے لئے ہاتھ اٹھانے پر بھی رفع الیدین کا اطلاق ہوتا ہے اسی طرح بوقت سلام صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہاتھ اٹھایا اس پر بھی رفع الیدین کا اطلاق ہوا۔

تحریر آفتاب:
کفایت اللہ صاحب نے دوسری روایت سے ثابت کرنا چاہا کہ وہ سلام کے وقت والا رفع الیدین ہے ۔ جبکہ صحیح مسلم اسکنوا فی الصلاہ والی حدیث اور سلام کے وقت والی حدیث میں بہت فرق ہے ۔
صحیح حدیث والی حدیث میں صحابہ نماز پڑہ رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے جبکہ آپ والی حدیث میں باجماعت نماز کا ذکر ہے ۔
دو الگ واقعات کو تڑوڑ مڑوڑ کربغیر دلیل کہ ایک حدیث ثابت کرنا صرف دل کی تسلی کہ لیئے ہو سکتا کسی کو قائل کرنے کے لئیے نہیں ۔

محترم آپ کے پیش کردہ نکتہ سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوسکتاہے کہ کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں لیکن ان واقعات کی نوعیت بھی الگ الگ ہے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا، ہم مان لیتے ہیں کہ دونوں حدیثوں میں دو واقعہ کا ذکر ہے لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ پہلے واقعہ میں جس رفع الیدین کا ذکر ہے وہ دوسرے واقعہ میں مذکور رفع الیدین سے الگ ہے؟؟؟
محترم پہلے دوسری حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ» (المعجم الكبير للطبراني :2/ 205 رقم 1836 واسنادہ صحیح)
ملون اورخط کشیدہ الفاظ پر دھیان دیں یہاں پررفع الیدین کے الفاظ ہیں ، نیز اسی حدیث میں یہ بھی وضاحت ہے کہ یہ رفع الیدین بوقت سلام والا تھا، اب اس بات پر غور کریں کہ اس بوقت سلام والے رفع الیدین کو ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ سے تعبیر کیا گیا، اس سے پتہ چلا کہ ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ ولا رفع الیدین بوقت سلام واے رفع الیدین ہی کو کہا گیاہے۔
اب اپنی مستدل حدیث مسلم پر پلٹ کر غور کریں، یہاں بھی ممنوعہ رفع الیدین کے لئے ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ کے الفاظ ہیں اس سے ثابت ہوا کہ اس حدیث میں بھی ممنوعہ رفع الیدین سے مراد وہی رفع الیدین ہے جس کی وضاحت دوسری حدیث میں ہوگئی ہے۔
الغرض یہ کہ دونوں حدیث کو الگ الگ واقعہ پر تو محمول کیا جاسکتا ہے مگر الگ الگ رفع الیدین پر محمول ہرگز نہیں کیا جاسکتاہے۔

تحریر آفتاب:
اس کہ علاوہ آپ نے عبداللہ بن عمر کے حوالہ سے رفع الیدین ثابت کرنے کی کوشش کی اس کی بھی تحقیق ملاحظہ فرمایں
عبد اللہ بن عمر رفع الیدین نہیں کرتے تھے
مصنف ابن ابی شیبہ کی دو روایات ہیں ایک میں حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہ کے شاگر امام مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کرتے تھے اور کسی اور جگہ نہیں کرتے تھے ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ»
[مصنف ابن أبي شيبة 1/ 214 رقم 2452 ]

امام بخاری فرماتے ہیں :
قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ حُصَيْنٍ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ مِنْهُ لَا أَصْلَ لَهُ.
[رفع اليدين في الصلاة ص: 20]

امام احمدبن حنبل اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
رواه أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، عن ابن عمر، وهو باطل.
[ سوالات ابن ہانی :١ / ٥٠ موسوعة أقوال الإمام أحمد في الجرح والتعديل ١٠/ ٣٤٧]

یہ جرح مفسر ہے اب آپ پر لازم ہے کہ کم ازکم تین ایسے ناقدین کے ثابت اقوال پیش کریں جنہوں نے اس جرح مفسرکا ازالہ کیاہو۔

تحریر آفتاب:
اور دوسری روایت میں اسود کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی اور انہوں نے صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کیا
اس کا مطلب ہے عبداللہ بن عمر رفع الیدین ترک کرجکے تھے

یہ روایت میں کافی کوشش کے باوجود بھی مصنف ابن ابی شیبہ میں تلاش نہیں کرسکا اگر آپ الفاظ مع حوالہ نقل کردیں توبڑی مہربانی ہوگی۔

تحریر آفتاب:
کچھ مزید ملاحظہ فرمائین
ترکِ رفع پر غیر مقلدین کے گھر سے دلایل:۔
غیرمقلدین جو ہر وقت یہ شور مچاتے ہیں کہ جو رفع یدین نہ کرے اسکی نماز نہیں ہوتی آیے دیکھتے ہیں کہ انکے بڑے اس بارے میں کیا کہتے ہیں ۔
مولانا سید نذیر حسین صاحب دہلوی اپنے فتاویٰ نذیریہ جلد1 صفحہ 141 میں فرماتے ہیں
کہ رفع یدین میں جھگڑاکرنا تعصب اور جہالت کی بات ہے ، کیونکہ آنحضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دونوں ثابت ہیں ، دلایل دونوں طرف ہیں۔
نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالی جماعتِ غیر مقلدین کے بڑے اونچے عالم اور مجدد وقت تھے ، ان کی کتاب روضہ الندیہ غیر مقلدین کے یہاں بڑی معتبر کتاب ہے، نواب صاحب اس کتاب میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب سے نقل کرتے ہوے فرماتے ہیں۔
۔”رفع یدین و عدم رفع یدین نماز کے ان افعال میں سے ہے جن کو آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کبھی کیا ہے اور کبھی نہیں کیا ہے ، اور سب سنت ہے ، دونوں بات کی دلیل ہے ، حق میرے نزدیک یہ ہے کہ دونوں سنت ہیں۔۔۔(صفحہ 148)”۔
اور اسی کتاب میں حضرت شاہ اسماعیل شہید کا یہ قول بھی نقل کرتے ہیں ولا یلام تارکہ و ان ترکہ مد عمرہ (صفحہ 150)۔ یعنی رفع یدین کے چھوڑنے والے کو ملامت نہیں کی جاے گی اگرچہ پوری زندگی وہ رفع یدین نہ کرے۔
غیر مقلدین کے بڑے اکابر بزرگوں کی ان باتوں سے پتا چلا کہ ان لوگوں کے نزدیک رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں آنحضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور دونوں سنت ہیں، اب سچے اہلحدیث ہونے کا تقاضا یہ تھا کہ یہ حضرات دونوں سنتوں پر عامل ہوتے مگر ان کا عمل یہ ہے کہ ایک سنت پر تو اصرار ہے اور دوسری سنت سے انکار ہے،

محترم اس طرح کے گھریلو دلائل تو آپ کے گھر سے پیش کئے جاسکتے ہیں مگر اس سے کیا فائدہ اس لئے صرف دلائل پر بات کریں۔

تحریر آفتاب:
بلکہ دوسری سنت پر جو عمل کرتا ہے اسکو برا بھلا کہا جاتا ہے ، سنت پر عمل کرنے والوں کو برا بھلا کہنا کتنی بڑی گمراہی ہے

واہ بھائی ! ذار اپنی طرف بھی دیکھ لیں آپ خود رکوع والے رفع الیدین کو گھوڑوں کی دم سے تشبیہ دیں ، بلکہ آپ کے امام اڑان بھرنے کی بات کہہ کر مذاق اڑائیں ، یہ سب کیا ہے؟؟؟

تحریر آفتاب:
آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کسی حنفی نے رفع یدین کرنے والوں کو اس کے رفع یدین کرنے پر برا بھلا کہا ہو۔

برابھلا تو دور کی بات ہے ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ رفع الیدین کرنے والوں کو قتل تک کی دھمکی دی گئی ہے۔
قارئین سے گذارش ہے کہ ذرا پیچھے جاکر ہماری مکمل تحریر مطالعہ کریں پھر فیصلہ کریں کہ کیا واقعی آفتاب صاحب نے ہماری اصل باتوں کا جواب دیا ہے۔

تحریر آفتاب:
 آپ نے وتر کی تکبیر اور وتر میں احناف کے ہاتھ اٹھانے کی وجہ سے اعتراض کیا ہے اس صحیح مسلم کی حدیث مین خیل شمس کی قید ھے اور اس کی حرکت کا یہ انداز ھوتا ھے کہ وہ اپنی دم اٹھا کر اچھلتا ھے۔یعنی اس کا بدن اور دم ایک ساتھ حرکت میں آتے ھیں۔ دیکھیے امام لغت عربی ابو منصور ثعلبی فقھ اللغہ وسر العربیہ میں فرماتے ھیں۔ فاذا کان مانعا ظھرہ فھو شموس اس کے علاوہ نووی شرح مسلم میں لکھا ھے التی لا تسقربل تضطرب و تتھرک باذنا بھا وارجلھا (ج١ ص ١٨١) اور جنآب وتر اور عیدین کی رفع یدین کے وقت صرف ھاتھ ھلتے ھیں بدن نہیں ھلتا

محترم آفتاب صاحب سب سے پہلے درج ذیل حدیث کو بہت ہی غور سے پڑھیں:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ» (المعجم الكبير للطبراني :2/ 205 رقم 1836 واسنادہ صحیح)

اس حدیث میں چار چیزوں پر دھیان دیں:
① رفع الیدین کی صراحت ہے۔
’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ کے الفاظ ہیں ۔
③ بوقت سلام کی صراحت ہے۔
④ حدیث کے شروع میں راوی نے یہ وضاحت کی ہے کہ ’’وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ‘‘ یعنی صحابہ دائیں بائیں ہاتھ کو ہلاتے تھے۔

اب عرض ہے:

اولا:

آپ نے یہ تو تسلیم کرلیا ہے کہ بوقت سلام والے رفع الیدین پر بھی ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ کے الفاظ بولے گئے ہیں، جیسا کہ ابھی میں نے پھر حدیث پیش کردی ہے اب آپ سے سوال ہے کہ ، بوقت سلام والے رفع الیدین میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف ہاتھ اٹھاتے تھے یا ساتھ میں بدن بھی حرکت کرتے تھے ؟؟؟؟
اس کا جواب اسی حدیث میں موجود ہے اوروہ ہے راوی کی یہ تشریح :
وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ یعنی امام مسعرنے صرف ہاتھ ہلاکر بوقت سلام والے اس ممنوعہ رفع الیدین کی کیفیت بیان کی ہےاور راوي الحديثِ أَدرى بمرويِّه من غيرِه۔
معلوم ہوا کہ اگر رفع الیدین کے ساتھ بدن کو حرکت نہ دیا جائے تواسے بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ ‘‘ سے تعبیرکیاہے۔
اب اگر بدن کی حرکت کے بغیر والے رفع الیدین پر ’’كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ ‘‘ کا الفاظ صادق نہیں آتے تو کہہ دیجئے کہ بوقت سلام ولی احادیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح تعبیر استعمال نہیں کی !!!!!

ثانیا:

پیش کردہ حدیث میں ہے وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ سے ایسے رفع الیدین کو تعبیر کیا ہے جن میں ہاتھ کودائیں اوربائیں طرف ہلایا جاتاہے نہ کہ اوپر نیچے جیسا کہ رکوع والے رفع الیدین کا معاملہ ہے۔
بوقت سلام والی اس حدیث سے یہ ثابت ہوگیا کہ ’’كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ کے الفاظ اسی رفع الیدین پر صادق آسکتے ہیں جس میں ہاتھ دائیں بائیں ہلایا جائے، ایسی صورت میں رکوع والا رفع الیدین اس تعبیر کی زد میں آتا ہی نہیں کیونکہ اس میں ہاتھ کو اوپر نیچے اٹھا یا جاتا ہے ۔

 ④  اعتراض از: آفتاف

اولا:
عجیب بات ہے ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت میں نسخ یا دائمی ترک کی دلیل کہاں ہے اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ کبھی کبھار ترک رفع بھی جائز ہے ، یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ترک کا ثبوت لیا جائے اور دیگر صحابہ کی روایت سے مشروعیت کا ثبوت لیا جائے کیونکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں نسخ یا اخیر حیاۃ کی کوئی صراحت نہیں ہے۔
لیکن آپ کا دعو ی نسخ کا ہے اورآپ کے اس دعوی پر یہ حدیث قطعادلیل نہیں بن سکتی اس سے زیادہ سے زیادہ جواز الامرین پر استدلال کیا جاسکتا ہے نہ کہ نسخ یا ترک پر۔
ایک بات تک تو آپ پہنچے کہ اگر یہ روایت صحیح ثابت ہوجائے تو عدم رفع الیدین کےجواز کے قائل ہوجائیں گے۔ جب جواز الامرین ہو تو ایک فریق اس راستے پر چلتا ہے تو جس کو بہتر سمجھتا ہے لیکن دوسرے فریق سے اعراض نہیں کرتا ہے ۔ یہی افضل اور غیر افضل کہلاتا ہے ۔ میں نے شرو‏ع میں کہا تھا میں اس معاملہ کو حلال و حرام کا فرق نہیں بلکہ افضل اور غیر افضل کا فرق سمجھتا ہوں۔ میں نے کسی بھی موقع پر منسوخ نہیں کہا البتہ متروک ضرور کہا ہے ۔ منسوخ کا مطلب ہے جس کام سے منع کردیا گیا ہو۔ یہ میں نے کہیں بھی نہ کہا ۔ البتہ متروک ضرور کہا ۔ یعنی اس کو ترک کیا گیا ۔ اگر رفع الیدین کرنے کے مقابلے میں عدم رفع الیدین کی روایت زیادہ مضبوط ثابت ہوں تو کہا جائے گا کہ رفع الیدین کرنا افضل اور راجح ہے ۔ اور اس حدیث سے ثابت ہے رفع الیدین کو ترک کیا گيا ۔ہاں اس بات سے میں اتفاق کرتا ہوں دائمی ترک کی دلیل اس میں نہیں اور نہ میں نے اس کا دعوی کیا۔

ثانیا:
ہم نے یہ بھی تو کہا تھا :
آپ کومعلوم ہونا چاہے کہ نمازظہر سے قبل کتنی رکعات سنت مؤکدہ ہیں اس سلسلے میں ایک حدیث میں آتاہے کہ چاررکعت، اورایک دوسری حدیث میں آتاہے کہ دورکعت ، توکیا اس دوسری حدیث سے آپ یہ نتیجہ اخذکریں گے کہ ظہرسے قبل چاررکعت پڑھنا متروک ہے صرف دو ہی پڑھیں گے؟؟؟
جناب اس طرح کی احادیث سے متروک کا دعوی ثابت نہیں ہوتا کوئی ایسی روایت تلاش کریں جس میں متروک کی دلیل ہو۔
اس کا جواب کون دے گا؟؟؟
یہاں بھی وہ جواب ہوگا جو “اولا” کے جواب میں لکھا ۔
ثالثا:
ہماری طرف سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی جاتی ہے تو آپ حضرات شور مچاتے ہیں کہ تاحیاۃ کا لفظ دکھاؤ، ہمیشگی کی صراحت دکھاؤ وغیرہ وغیرہ ، خود اپنی باری میں یہ اصول کیوں فراموش کردیا؟
یہ دلیل ان سے طلب کی باتی ہے جن کا دعوی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی رفع الیدین ترک نہیں کیا ، اگر آپ کا بھی یہ دعوی ہے تو آپ سے بھی دلیل مانگی جائے گی۔ اگر آپ جواز الامرین کے قائل ہں تو ایسی دلیل کا مطالبہ نہیں ہوگا۔
رابعا:
عبداللہ بن مسود رضی اللہ عنہ وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی تطبیق کرتے تھے حوالہ پہلے پیش کیا جاچکا ہے ، اس بارے میں کیا خیال ہے؟؟؟
اس مسئلہ پر میری پہلے سے تحقیق نہیں ۔ میں اپنی طرف سے کچھ کہنا نہیں چاہوں گا اور خواخواہ باتیں نہیں کروں گا ۔ کیوں کہ یہ پھر بحث برائے بـحث ہو گی ۔ کچھ کتب کے مطالعہ کے بعد ہی کچھ لکھوں گا۔ في الحال اس میں کچھ وقت لگے گا
کیا دلائل کے ساتھ تضعیف کا جواب یہی ہوتا ہے کہ فلاں نے اس کو صحیح کہا ہے ؟ اگر ایسا ہی ہے تو بیسوں محدثین کے حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں جنہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ایسی صورت میں آپ کیا کہیں گے۔
یہاں پھر وہی بات آئی جو میں کہ رہا ہوں ۔ اگر دو محدثین اگر دو مختلف بات کہ رہے تو ایک محقق کو جس کی بات راجح لگے اس کو قبول کرے اور اس کوافضل سمجھے ۔ حلال و حرام کا معاملہ نہ بنائے۔
محترم امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کو غیر حجت کسی نے نہیں کہا ہے وہ فی نفسہ ثقہ ہیں ، لیکن کبھی کبھار ثقہ سے بھی غلطی ہوجاتی ہے اصول حدیث میں یہ معروف بات ہے، اورجب اہل فن کسی خاص روایت کے بارے میں یہ مفسرجرح کردیں کہ یہاں اس ثقہ راوی کو وہم ہوا ہے تو اہل فن کی یہ بات حجت ہوگی، اسے اسی صورت میں نظر انداز کیا جاسکتا ہے جب دیگر محدثین اس جرح مفسر کی صراحت کے ساتھ تردید کردیں ، آپ کم از کم دو ایسے ثقہ محدثین کے حوالے پیش کریں جنہوں صراحت کے ساتھ یہ کہا ہوں کہ امام سفیان ثوری کو اس روایت میں وہم نہیں ہوا۔
جناب آپ نے مجھ سے تو صراحت کے ساتھ دو محدثین کے نام مانگے جنہوں نے یہاں کہا ہو کہ امام سفیان کو یہاں وہم نہیں ہوا لیکن خود ایک محدث کا نام بھی صراحت کے ساتھ نہ دیا کہ جس نے امام سفیان کی اس ورایت کے متعلق کہا ان کو وہم ہوا ہے ۔ابو حاتم کے بیان میں الفاظ ہیں “قال أبِي : ہذا خطأٌ ، يُقالُ : وہِم فیہا الثوری ” يقال ۔ یہ کس کا قول ہے یقال سے ثابت ہوتا کہا جاتا ہے لیکں کون کہتا ہے یہ واضح نہیں ۔ یہ الفاظ مبہم ہیں ۔ آپ کس بنیاد پر اسے جرح مفسر کہ رہے میں جب کہ محدث کا نام تک معلوم نہیں۔

ثانیا:
ہم نے ضعف کا ایک اورسبب پیش کیا تھا سفیان الثوری کا عنعنہ، اس کا آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
پہلے آپ نے سفیان کو مدلس کہا ۔ جب میں آمیں بالجہر میں آپ حضرات کی تحقیقی دکھائی تو آپ نے ان فی نفسہ ثقہ کہا ۔ پھر آپ نے ان کے عن سے روایت کرنے پر اعتراض کیا ، آپ اپنے حضرات کی سینے پر ہاتھ باندھنے والی روایت دیکھ لیں ۔ وہاں اپ حضرات ان کی روایت سے حجت بھی پکڑ رہے ہیں اور سفیان عن سے روایت کررہے ہیں ۔ یہ کیوں ؟

تو کیا آپ کے نزدیک تطبیق کا عمل منسوخ نہیں ہے ؟؟؟
اس کے متعلق پہلے لکھ چکا ہوں
ملون الفاظ پر غور کریں آپ نے ’’فی الصلوٰۃ ‘‘ سے استدلال کیا تھا اور ہم نے بھی جوابا ایسی احادیث پیش کی تھیں جن میں تکبیر تحریمہ ولاے رفع الیدین کے لئے بھی ’’فی الصلاۃ ‘‘ کا لفظ استعمال ہے ان احادیث کا آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ ميں مثال سے کہ چکا ہوں فی الصلاہ اور الدخول في الصلاہ میں بہت فرق ہے ۔ اگر کہا جائے گھر میں داخل ہو اور گھر میں بلا حرکت کھڑے رہو تو ایک شخص في الیبت تو بلا حرکت کھڑا ہوگا اور جب داخل ہو گا تو لازمی حرکت کرے گا لیکن اس کو کہا جائے گا دخل في البیت ۔ یہاں بھی فی کا لفظ ہے لیکن کوئی بھی یہ نہ کہے گا کہ اس نے گھرمیں کوئی حرکت کی ۔
اورپہلے ثابت کیا چکا ہے کہ آپ کی مستدل حدیث مسلم میں ممنوعہ عمل کا تعلق بھی نماز کے آخری حصہ سے ہے، مزید تفصیل آگے بھی آرہی ہے۔
اس کا جواب بھی اس تفصیل کے بعد ہے ۔

اولا:
یہ کیا کہہ رہے ہیں بھائی ؟ کہاں نماز کی رفتار اور کہاں ٹرین کی رفتار؟ دونوں میں بڑا فرق ہے اس فرق کو ملحوظ رکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ مثال خود آپ ہی کے خلاف ہے ، جناب ٹرین کی رفتارشروع میں کم ہوتی ہے مگر بعد میں اس کی رفتار بڑھتی جاتی ہے ، اب آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ کیا نماز بھی اسی طرح کی رفتار ہوتی ہے یعنی شروع میں کم اوربعد میں تیز ہوتی چلی جاتی ہے؟؟؟
محترم نماز میں تعدیل ارکان کا حکم ہے جس کامطلب ہے نماز پوری کی پوری ایک ہی انداز (آپ کے الفاظ میں رفتار) سے پڑھی جاتی ہے پھر تو آپ ہی کی مثال کے مطابق اس کے شروع کا حصہ ہو یا اخیر کا رفتار یکساں رہتی ہے۔
جب کسی چیز سے مثال دی جاتی ہے تو اس کہ یہ مطلب نہیں کہ وہ چیز ہو بہو ویسے ہی ہو گی۔ قرآن میں منافقین کے اعمال کی ایک مثال آگ جلانے والے سے دی گئی اس کی مذید تفصیل آپ تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں تو کیا منافقین کے لئیے سردیاں اچھی ہوتی ہیں اور معاذ اللہ ہر ایک کو سردیوں میں منافق ہوجانا چاہئیے۔ ٹرین والی اس مثال سے بتانا مقصود ہے کہ ہر عمل کے ابتدائی بیچ اور آخری حصہ کی کیفیت الگ ہوتی ہے۔
ثانیا:
محترم مذکورہ مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ذرا اپنے نماز وتر والے رفع الیدین کا انجام سوچ لیں ، وترمیں آپ کا رفع الیدین یقنا ایسے وقت میں ہوگا جب آپ کی مثال کے بموجب آپ کی نماز کی رفتار بہت تیز ہوگی ، ایسی صورت میں رفع الیدین کرنے والے کا وہی حشر ہونا چاہئے جو تیز رفتار سے چلتی ہوئی ٹرین سے چھلانگ لگانے والے کا ہوتا۔
وتر کا رفع الیدین اس سے مستثنی ہے
عَنْ عَبْدِ اللہِ بن مسعود –رضي اللہ عنہ- : (( أَنّہُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْہِ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ ))(رواه ابن أبي شيبہ (2/307) ، والبخاري في جزء رفع اليدين (91) ، وابن المنذر في الاوسط رقم (2671) ، والبيہقي في سننہ رقم (5062)
وتر کے رفع الیدین کے اثبات میں صحیح حدیث موجود ہے لیکن ترک میں کوئی صحیح حدیث میرے ناقص عمل کس مطابق نہیں تو یہ رفع الیدن کیا جائے گا ۔ اسکنوا في الصلاہ عام حکم ہے لیکن وتر کا استثناء حدیث میں مزکور ہے تو وتر میں رفع الیدین کیا جائے گا۔
ثالثا:
محترم بھائی ! نماز میں رفع الیدین کرنا کیا ٹرین سے چھلانگ لگانے کی طرح ہے ، ابتسامہ مع استغفراللہ ۔
بھائی جی ٹرین سے چھلانگ لگانے کے بعد آدمی ٹرین سے الگ ہوجاتا ہے تو کیا آپ حضرات بھی پہلا رفع الیدین کرکے نماز سے الگ ہوجاتے ہیں ۔
میں بتاچکا ہوں کہ مثال کیوں پیش کی۔ اس کا جواب اوپر آچکا ہے۔
یہ سوال آپ سے بھی کیا گیا گیا تھا مسلم کی مستدل حدیث میں کون سا رفع الیدین مراد ہے مگر آپ نے بغیر دلیل کے اسے رکوع والا رفع الیدین مان لیا ، آپ سے گذارش ہے کہ اس بات کا ثبوت دیں کہ اس سے مراد رکوع والا رفع الیدین ہے ۔
واضح رہے کہ دعاء کے لئے ہاتھ اٹھانے پر بھی رفع الیدین کا اطلاق ہوتا ہے اسی طرح بوقت سلام صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہاتھ اٹھایا اس پر بھی رفع الیدین کا اطلاق ہوا۔
محترم آپ کے پیش کردہ نکتہ سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوسکتاہے کہ کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں لیکن ان واقعات کی نوعیت بھی الگ الگ ہے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا، ہم مان لیتے ہیں کہ دونوں حدیثوں میں دو واقعہ کا ذکر ہے لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ پہلے واقعہ میں جس رفع الیدین کا ذکر ہے وہ دوسرے واقعہ میں مذکور رفع الیدین سے الگ ہے؟؟؟
محترم پہلے دوسری حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ» (المعجم الكبير للطبراني :2/ 205 رقم 1836 واسنادہ صحیح)
ملون اورخط کشیدہ الفاظ پر دھیان دیں یہاں پررفع الیدین کے الفاظ ہیں ، نیز اسی حدیث میں یہ بھی وضاحت ہے کہ یہ رفع الیدین بوقت سلام والا تھا، اب اس بات پر غور کریں کہ اس بوقت سلام والے رفع الیدین کو ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ سے تعبیر کیا گیا، اس سے پتہ چلا کہ ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ ولا رفع الیدین بوقت سلام واے رفع الیدین ہی کو کہا گیاہے۔
اب اپنی مستدل حدیث مسلم پر پلٹ کر غور کریں، یہاں بھی ممنوعہ رفع الیدین کے لئے ’’ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ‘‘ کے الفاظ ہیں اس سے ثابت ہوا کہ اس حدیث میں بھی ممنوعہ رفع الیدین سے مراد وہی رفع الیدین ہے جس کی وضاحت دوسری حدیث میں ہوگئی ہے۔
الغرض یہ کہ دونوں حدیث کو الگ الگ واقعہ پر تو محمول کیا جاسکتا ہے مگر الگ الگ رفع الیدین پر محمول ہرگز نہیں کیا جاسکتاہے۔
اگر دو الگ واقعات کے بیان میں ایک جیسے القاظ ہوں تو آپ کے نذیک وہ ایک واقعہ ہے۔ یہ عجیب دلیل سنی میں نے۔
اگر آپ یہ کہتے تو زیادہ بہتر تھا کہ یہ احتمال ہے کہ دونوں حدیثیں سلام کے وقت والے رفع الیدین کی نہیں ہیں ۔ اس سے بھی دونوں امور کا جواز بیدا ہوتا ہے اور جواز الامرین کے متعلق میں لکھ چکا ہوں۔
میں نے بھی اس سے مراد عدم رفع الیدن کا احتمال لیا ہے ۔ 100٪ دعوی نہیں ۔ اگر میں 100٪ فیصد دعوی کروں تو میں رفع الیدین کو حرام کہوں گا لیکن میں افضل اور غیر افضل کا معاملہ کہہ رہا ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ»
[مصنف ابن أبي شيبة 1/ 214 رقم 2452 ]
امام بخاری فرماتے ہیں :
قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ حُصَيْنٍ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ مِنْهُ لَا أَصْلَ لَهُ.
[رفع اليدين في الصلاة ص: 20]

امام احمدبن حنبل اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
رواه أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، عن ابن عمر، وهو باطل.
[ سوالات ابن ہانی :١ / ٥٠ موسوعة أقوال الإمام أحمد في الجرح والتعديل ١٠/ ٣٤٧

یہ جرح مفسر ہے اب آپ پر لازم ہے کہ کم ازکم تین ایسے ناقدین کے ثابت اقوال پیش کریں جنہوں نے اس جرح مفسرکا ازالہ کیاہو۔
امام بخاری 194 ہجری میں پیدا ہو‎ئے اور امام یحیی بن معین 157 ہجری میں پیدا ہوئے ۔ امام یحیی بن معین کا قول امام بخاری تک کیسے پہنچا ۔ سند بتائیے ۔
یہاں امام احمد کا باطل کہنا جرح مفسر نہیں ۔ کیوں انہوں نے باطل کہنے کی وجہ بیان نہیں کی ۔ اس کوجرح مبہم کہا جاسکتا ہے ۔ اس کے خلاف تین ناقدین کے قول کی وجہ ۔ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اس روایت کو جرح مفسر کے ساتھ بیان کرنے والے تین محدثین کے اقوال نقل کریں۔
مذید کیا ان راویوں میں کوئی ضعیف ہے ؟ کیا یہ بخاری کے راوی نہیں ؟

محترم اس طرح کے گھریلو دلائل تو آپ کے گھر سے پیش کئے جاسکتے ہیں مگر اس سے کیا فائدہ اس لئے صرف دلائل پر بات کریں۔
اگر آپ حضرات کو ان اہلحدیث علماء کی تحقیق حق نہیں لگتی تو کوئی بات نہیں کیوں کہ خطا تو کسی سے بھی ہوسکتی ہے ۔لیکن کیا آپ نے اپنی عوام کو غلطی سے بچانے کے لئیے اس خطا کی طرف کسی کتاب میں رہنمائی کی۔
واہ بھائی ! ذار اپنی طرف بھی دیکھ لیں آپ خود رکوع والے رفع الیدین کو گھوڑوں کی دم سے تشبیہ دیں ، بلکہ آپ کے امام اڑان بھرنے کی بات کہہ کر مذاق اڑائیں ، یہ سب کیا ہے؟؟؟
ہم مذاق نہیں اڑاتے صرف حدیث کے الفاظ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ کا ترجمہ کرتے ہیں
برابھلا تو دور کی بات ہے ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ رفع الیدین کرنے والوں کو قتل تک کی دھمکی دی گئی ہے۔
ثبوت بیش کریں ۔ اورکسی شخص کے انفرادی عمل کو پوری جماعت پر چپپاں نہ کریں۔

جواب از : کفایت اللہ سنابلی

تحریر آفتاب
ایک بات تک تو آپ پہنچے کہ اگر یہ روایت صحیح ثابت ہوجائے تو عدم رفع الیدین کےجواز کے قائل ہوجائیں گے۔

میں نے بطورتنزل ایک بات کہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ یہ استدلال کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کی صحت ثابت ہوجائے تو جواز الامرین کا ثبوت فراہم ہوجائے گا، کیونکہ صحت کے ثبوت کے باوجود بھی یہ روایت جواز الامر ین کی دلیل نہیں ہوگی ، جیساکہ بہت سے اہل علم نے اسے صحیح فرض کرنے کے باوجود بھی جواز الامرین کی دلیل نہیں مانا ہے کیونکہ دیگر کئی چیزوں کے احتمالات ہیں، مثلا:

① عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کرتے وقت رفع الیدین کرنا بھول گئے ہوں جیسے اوربھی بہت سی چیزیں آپ رضی اللہ عنہ بھول گئے تھے، کیونکہ تمام صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی تر ک کی بات نہیں روایت کی ہے حتی کہ سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت کا شرف حاصل کرنے والے خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایسی کوئی روایت نقل نہیں کی ہے بلکہ اس کے برعکس اثبات رفع کی روایت نقل کی ہے، بلکہ بعض اہل علم کے بقول خودا بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف اثبات رفع کی روایت بھی منسوب ہے امام ابن االملقن فرماتے ہیں:
قَالَ الْبَيْهَقِيّ فِي «خلافياته» ويعارضه بِأَنَّهُ قد رَوَى حَدِيثا مسلسلًا عَن عَلْقَمَة، عَن عبد الله، عَن النَّبِي – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم – ذكر فِيهِ الرّفْع عِنْد الرُّكُوع وَالرَّفْع مِنْهُ [البدر المنير 3/ 492]
لیکن اس روایت تک ہماری رسائی نہیں ہوسکی ، واللہ اعلم۔

(نوٹ:-بعد میں یہ روایت سند کے ساتھ ہم کو مل گئی اس کے بارے میں ہماری تحقیق اس لنک پر ملے گی ۔)

② عدم رفع سے سے مراد تکبیر تحریمہ کے وقت ایک سے زائد والا رفع ہو جیساکہ عیدین کی نماز میں ہوتاہے۔

③ عدم رفع کا یہ عمل اس وقت کا ہو جب تطبیق مشروع تھی اور تطبیق کے نسخ کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت بھی منسوخ ہوئی اورابن مسعورضی اللہ عنہ ان دونوں سے لاعلم رہے جیساکہ اوربھی بہت سی چیزوں سے آپ واقف نہ ہوسکے۔

تحریر آفتاب:
یہ دلیل ان سے طلب کی باتی ہے جن کا دعوی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی رفع الیدین ترک نہیں کیا ، اگر آپ کا بھی یہ دعوی ہے تو آپ سے بھی دلیل مانگی جائے گی۔

جن کا دعوی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی رفع الیدین ترک نہیں کیا آپ ان سے بھی یہ مطالبہ نہیں کرسکتے ، کیونکہ ان کا یہ بھی تو دعوی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیرتحریمہ والا رفع الیدین بھی کبھی ترک نہیں کیا ہے ، پھر آپ اس رفع الیدین سے متعلق یہی مطالبہ کیونکہ نہیں کرتے ؟؟؟ اسی طرح احناف کا بھی یہی دعوی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین ترک نہیں کیا ، پھر کیا احناف سے یہ مطالبہ درست ہوگا کہ وہ تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین سے متعلق تاحیاۃ کی صراحت دکھلائیں ؟؟؟
واضح رہے کہ خود کو مسلمان کہنے والا ایک فرقہ تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کو بھی منسوخ مانتا ہے اور اس مسئلہ پر ان کی طرف سے مستقل کتابیں لکھی جاچکی ہیں جو نیٹ کے متعدد صفحات پر موجود ہیں، بلکہ یہی بات بعض تابعین کی طرف بھی منسوب ہے اولطف تو یہ ہے کہ خود عبداللہ بن مسعور رضی اللہ عنہ سے بھی تکبرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک کی ایک روایت منقول ہے ، اگر اس موقف کے حاملین آپ سے مطالبہ کریں کہ تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کے دوام کی صراحت دکھلائیں تو کیا یہ مطالبہ درست ہے؟؟؟
لطف تو یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین کے تارکین بھی اس کے ترک پر وہی حدیث مسلم پیش کرتے ہیں جسے آپ پیش کررہے ہیں۔
تکبیر تحریمہ والے رفع الیدین پر اختلاف سے متعلق ہم ایک الگ مضمون جلد ہی پیش کریں گے۔
نیزاسی طرح مالکیہ قیام میں ارسال یدین کے قائل ہیں اب اگر وہ وضع یدین کی احادیث سے متعلق یہ مطالبہ کریں کہ ان میں تاحیات کی صراحت دکھلاؤ تو کیا کہ مطالبہ درست ہے؟؟؟
محترم جو شخص اعمال صلاۃ میں سے کسی عمل کی بابت تاحیات کا قائل ہے اس کے لئے بس یہی کافی ہے کی کسی صحیح حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پیش کردے ، تاحیاۃ کی صراحت پیش کرنا اس کے ذمہ نہیں ہے ، بلکہ جو ترک یا نسخ کا مدعی ہے اسی پر لازم ہے کہ ترک یا نسخ کی دلیل پیش کرے اور اگر نہ پیش کرسکے تو اعمال صلاۃ میں سے یہ عمل اصلا دائمی ہی تسلیم کیا جائے گا۔
مثال کے طور پر قیام نماز ، میں ارسال یدین کا مسئلہ ہے میرے ناقص علم کی حدتک کسی بھی حدیث میں اس عمل سے متعلق تاحیاۃ کی صراحت نہیں ہے ، تو کیا آپ اسے دائمی تسلیم نہیں کریں گے؟؟؟

تحریر آفتاب:
اس مسئلہ پر میری پہلے سے تحقیق نہیں ۔ میں اپنی طرف سے کچھ کہنا نہیں چاہوں گا اور خواخواہ باتیں نہیں کروں گا ۔ کیوں کہ یہ پھر بحث برائے بـحث ہو گی ۔ کچھ کتب کے مطالعہ کے بعد ہی کچھ لکھوں گا۔ في الحال اس میں کچھ وقت لگے گا۔

کوئی بات نہیں ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے آپ اطمئنان سے تحقیق کریں اورجب بھی آپ کے سامنے کوئی موقف راجح قرار پائے اس سے آگاہ کریں، بارک اللہ فیک۔

تحریر سنابلی
کیا دلائل کے ساتھ تضعیف کا جواب یہی ہوتا ہے کہ فلاں نے اس کو صحیح کہا ہے ؟ اگر ایسا ہی ہے تو بیسوں محدثین کے حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں جنہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ایسی صورت میں آپ کیا کہیں گے۔
تحریر آفتاب
یہاں پھر وہی بات آئی جو میں کہ رہا ہوں ۔ اگر دو محدثین اگر دو مختلف بات کہ رہے تو ایک محقق کو جس کی بات راجح لگے اس کو قبول کرے اور اس کوافضل سمجھے ۔ حلال و حرام کا معاملہ نہ بنائے۔

محترم ہم یہاں ایک مسئلہ پر تحقیقی گفتگوکررہے ہیں ، کیا صحیح ہے اورکیا غلط ، اس لئے دلائل پر بات کریں تصحیح وتضعیف کسی دلیل کا نام نہیں ہے۔

تحریرسنابلی
اولا:محترم امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کو غیر حجت کسی نے نہیں کہا ہے وہ فی نفسہ ثقہ ہیں ، لیکن کبھی کبھار ثقہ سے بھی غلطی ہوجاتی ہے اصول حدیث میں یہ معروف بات ہے، اورجب اہل فن کسی خاص روایت کے بارے میں یہ مفسرجرح کردیں کہ یہاں اس ثقہ راوی کو وہم ہوا ہے تو اہل فن کی یہ بات حجت ہوگی، اسے اسی صورت میں نظر انداز کیا جاسکتا ہے جب دیگر محدثین اس جرح مفسر کی صراحت کے ساتھ تردید کردیں ، آپ کم از کم دو ایسے ثقہ محدثین کے حوالے پیش کریں جنہوں صراحت کے ساتھ یہ کہا ہوں کہ امام سفیان ثوری کو اس روایت میں وہم نہیں ہوا۔
تحریرآفتاب
جناب آپ نے مجھ سے تو صراحت کے ساتھ دو محدثین کے نام مانگے جنہوں نے یہاں کہا ہو کہ امام سفیان کو یہاں وہم نہیں ہوا لیکن خود ایک محدث کا نام بھی صراحت کے ساتھ نہ دیا کہ جس نے امام سفیان کی اس ورایت کے متعلق کہا ان کو وہم ہوا ہے ۔ابو حاتم کے بیان میں الفاظ ہیں “قال أبِي : ہذا خطأٌ ، يُقالُ : وہِم فیہا الثوری ” يقال ۔ یہ کس کا قول ہے یقال سے ثابت ہوتا کہا جاتا ہے لیکں کون کہتا ہے یہ واضح نہیں ۔ یہ الفاظ مبہم ہیں ۔ آپ کس بنیاد پر اسے جرح مفسر کہ رہے میں جب کہ محدث کا نام تک معلوم نہیں۔

اولا:

میں نے جس چیز سے متعلق صراحت کی ہے وہ جرح کی تردید ہے ، یعنی کسی امام ناقد کا ایسا قول پیش کریں جس قول میں صراحت کے ساتھ مذکورہ جرح کا ازالہ ہو، اور آپ نے اس صراحت کے مطالبہ کو قائل کے نام سے جوڑ دیا !!!

ثانیا:

امام ابوحاتم رحمہ اللہ متاخرین میں سے کوئی عام امام نہیں ہیں ، بلکہ متقدمین میں سے امام ناقد اورامام حجت ہیں ، فن رجال میں امام حجت کا مطلب ہے جسے رواۃ پر جرح کی اٹھارٹی حاصل ہو ، اس پایہ کے ائمہ فن اگر برضاء رغب کسی کا قول نقل کریں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ امام اس قول سے متفق ہیں اب پیش رو قائل کوئی بھی ہو اس سے بحث نہیں کیونکہ ایک دوسرے امام حجت نے اسے برضاء رغبت نقل کیا ہے لہٰذا اس امام کی طرف سے بھی یہی جرح تسلیم کی جائے گی، اورمذکورہ عبارت پڑھ کرعام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ امام ابوحاتم نے مذکورہ بات سے متفق ہیں ۔

ثالثا:

میرا اقتباس دوبارہ ملاحظہ ہو:
وسألتُ أبِي عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ الثّورِيُّ ، عن عاصِمِ بنِ كُليبٍ ، عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ الأسودِ ، عن علقمة ، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد.قال أبِي : هذا خطأٌ ، يُقالُ : ’’وهِم فِيهِ الثّورِيُّ‘‘.وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ. [ علل الحديث 1 /96 رقم 258]
نمایاں اور ملون بلون الاحمر الفاظ پر دھیان دیجئے اس کے بعد صدق دل سے بتائیے کہ یہ الفاظ کن کے ہیں ، محترم یقال کے ذریعہ جو بات نقل کی گئی ہے وہ بس اتنی ہے جتنی میں نے ہرے رنگ سے ملون اور واوین کے درمیان کیا ہے۔

رابعا:

امام زیلعی فرماتے ہیں :
قال ابن أبي حاتم في ” كتاب العلل ( ٨ ) ” : سألت أبي عن حديث رواه سفيان الثوري عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة عن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم قام فكبر فرفع يديه ثم لم يعد فقال أبي : هذا خطأ يقال : وهم فيه الثوري فقد رواه جماعة عن عاصم وقالوا كلهم : إن النبي صلى الله عليه و سلم افتتح فرفع يديه ثم ركع فطبق وجعلهما بين ركبتيه ولم يقل أحمد ما روى الثوري انتهى . فالبخاري . وأبو حاتم جعلا الوهم فيه من سفيان [نصب الراية 1/ 293]
اب دیکھیں بعینہ اسی اقتباس کو نقل کرکے حنفیت کے ایک بہت بڑے امام یہ اقرار کررہے ہیں کہ امام ابوحاتم نے سفیان ثوری کو زیرنظر حدیث میں واہم قرار دیا ہے اور آپ کو اس اقتباس میں قائل کا نام ہی نظر ہی نہیں آتا، اب کس کی فہم عبارت کو درست سمجھے آپ کی یا آپ کے امام ذیلی امام زیلعی رحمہ اللہ کی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

خامسا:

مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امام ابوحاتم نے بھی زیر نظر حدیث کی روایت میں سفیان ثوری کو واہم قرار دیاہے، اگر اب بھی تسلی نہ ہو تو ’’یقال‘‘ کے قائلین سے بعض کے نام بھی سن لیں :
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
امام ابن آدم رحمہ اللہ
امام بخای رحمہ اللہ۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَ: نَظَرْتُ فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ . فَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّ الْكِتَابَ أَحْفَظُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لِأَنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا حَدَّثَ بِشَيْءٍ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْكِتَابِ فَيَكُونُ كَمَا فِي الْكِتَابِ .[رفع اليدين في الصلاة ص: 33]
مذکورہ عبارت کا مفاد یہی ہے کہ عاصم بن کلیب سے دیگر رواۃ نے سفیان ثوری کے برعکس روایت کیا ہے ، بالفاظ دیگر سفیان ثوری کو اپنی روایت میں وہم ہوا ہے۔

تحریر آفتاب:
پہلے آپ نے سفیان کو مدلس کہا ۔ جب میں آمیں بالجہر میں آپ حضرات کی تحقیقی دکھائی تو آپ نے ان فی نفسہ ثقہ کہا

اولا:

تعجب ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں ، محترم بھائی کیا مدلس اور ثقہ میں تضاد ہے ؟ محترم کسی کو مدلس کہہ دینے سے اس کی ثقاہت کا انکار لازم نہیں آتا۔

ثانیا:

آپ کی اس عبارت سے لگتا ہے کہ آپ کی نظرمیں ہم نے سفیان کو مدلس ماننے سے رجوع کرلیا ہے ، اور انہیں مدلس کے بجائے ثقہ کہہ رہے ہیں۔
جناب ہم اب بھی اپنی پہلی بات پر قائم ہیں ، ہم اب بھی کہتے ہیں کہ سفیان مدلس ہیں ، اورساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ سفیان ثقہ بھی ہیں، اس باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

تحریر آفتاب:
پھر آپ نے ان کے عن سے روایت کرنے پر اعتراض کیا ، آپ اپنے حضرات کی سینے پر ہاتھ باندھنے والی روایت دیکھ لیں ۔ وہاں اپ حضرات ان کی روایت سے حجت بھی پکڑ رہے ہیں اور سفیان عن سے روایت کررہے ہیں ۔ یہ کیوں ؟

نوٹ: ہمارے نزدیک راجح یہی قرار پایا ہے کہ سفیان ثوری کا عنعنہ عام حالات میں مقبول ہے الا یہ کہ تدلیس کی دلیل مل جائے ۔ اس بناپر سینے پر ہاتھ باندھنے والی روایت کو سفیان ثوری کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف قراردینا درست نہیں ہے۔
البتہ جن مدلسین کا عنعنہ مقبول ہوتاہے ان کا بعض عنعنہ بھی قرائن کی بناپررد کیا جاتاہے ،چونکہ رفع الیدین والی یہ روایت متواتر روایت کے خلاف ہے اس لئے خاص اس جیسے مقام پر سفیان ثؤری کے عنعنعہ پر اعتراض بھی کیا جاسکتاہے۔
لیکن چونکہ یہ بنیادی علت نہیں ہے اس لئے ہم اس اعتراض سے صرف نظر کرتے ہیں۔

تحریر آفتاب:
یہ ميں مثال سے کہ چکا ہوں ”فی الصلاہ“ اور ”الدخول في الصلاہ“ میں بہت فرق ہے

اولا:

اورمیں واضح کرچکا ہوں کہ آپ کی مثال بے محل ہے۔

ثانیا:

بات فرق کی نہیں ہے بات یہ ہے یہ تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین خواہ اس کی کیفیت کچھ بھی ہو ’’فی الصلاۃ‘‘ میں داخل ہے یا نہیں ؟ اگر داخل ہے تو حدیث مسلم کی زد میں یہ بھی آئے گا اور اگرداخل نہیں ہے تو اس کی دلیل دیں۔
آپ نے لفظ ٍ ’’فی الصلاۃ‘‘ سے استدلال کیا تھا ہم نے ایسی احادیث پیش کردیں جن میں تکبیر تحریمہ کے لئے بھی ’’فی الصلاۃ‘‘ کے الفاظ ہیں ، اب آپ فرق کی بات کررہے ہیں کیا فرق ثابت ہوجانے سے وہ یہ چیز نماز سے خارج ہوجائے گی۔

ثالثا:

حدیث مسلم میں ’’صرف فی الصلاۃ ‘‘ کے الفاظ ہیں ان میں ’’فی وسط الصلاۃ‘‘ کے الفاظ ہر گز نہیں ہیں، پھر آپ اسے درمیان صلاۃ کس دلیل کی بناپر لے رہے ہیں ۔

رابعا:

آپ یہ بتائیں کہ تکبر تحریمہ والا رفع الیدین اعمال نماز میں شامل ہے یا نہیں۔

خامسا:

آپ یہ بتائیں کہ سکون فی الصلاۃ کا حکم ہے تو کیا تکبر تحریمہ کے وقت اس پرعمل نہیں ہوگا بالفاظ دیگر کیاتکبرتحریمہ کے وقت سکون اپنانا ضروی نہیں ہے۔

سادسا:

بخاری کی یہ حدیث دیکھیں:
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: إِنْ كُنَّا لَنَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ بِحَاجَتِهِ، حَتَّى نَزَلَتْ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ، وَالصَّلاَةِ الوُسْطَى، وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] «فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ»
[صحيح البخاري 2/ 62 رقم 1200]
نمایاں الفاظ پر غور کریں صحابی کہہ رہے ہیں کہ ہم ’’فی الصلاۃ‘‘ بات کرتے تھے اور پھر ہمیں خاموش رہنے کاحکم دیا گیا، تو کیا اس ’’فی الصلاۃ ‘‘ میں نماز کا ابتدائی حصہ اورآخری حصہ شامل نہیں ہے؟؟؟؟

سابعا:

ایک اورحدیث دیکھیں :
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ ” أَقُولُ: اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ “
[صحيح مسلم 1/ 419 رقم (598)]
نمایاں الفاظ پر غور کریں اور بتلائیں کہ تکبر تحریمہ کے محل پر ’’فی الصلاۃ ‘‘ کا اطلاق کیسے ہوگیا؟؟؟؟

ثامنا:

جس حدیث میں یہ ہے کہ بوقت سلام صحابہ رفع الیدین کے کرتے تھے اس کے بھی کئی طرق میں’’ اسکنوا فی الصلاۃ ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں اوریہ سب کو معلوم ہے کہ سلام نماز کے اخیر میں ہوتا ہے جس طرح تکبیر تحریمہ نماز کے شروع میں ہوتا ہے ،پھرآپ بتلائیں کہ نماز کے اس اخیر حصہ کے لئے لئے ’’فی الصلاۃ ‘‘ کیسے کہہ دیا گیا۔

تاسعا:

لطف تو یہ ہے کہ مسلم کی مستدل حدیث میں بھی فی الصلاۃ سے مراد نماز میں بوقت سلام والا محل ہے جو کہ نماز کا آخری حصہ ہے اور اسے زبردستی وسط صلاۃ مراد لیا جارہاہے۔

عاشرا:

اگر کوئی سوال کرے کہ احناف حضرات ’’نماز میں‘‘ رفع الیدین کرتے ہیں کہ نہیں؟ تو کیا اس کا یہ جواب ہوگا کہ :نہیں ؟

تحریر آفتاب:
اگر کہا جائے گھر میں داخل ہو اور گھر میں بلا حرکت کھڑے رہو تو ایک شخص في الیبت تو بلا حرکت کھڑا ہوگا اور جب داخل ہو گا تو لازمی حرکت کرے گا لیکن اس کو کہا جائے گا دخل في البیت ۔ یہاں بھی فی کا لفظ ہے لیکن کوئی بھی یہ نہ کہے گا کہ اس نے گھرمیں کوئی حرکت کی ۔

مثال دینے سے پہلے حرکت کی نوعیت کا تعین کرلیں ، ورنہ آپ کی مثال بے محل ہوگی، زیر بحث حدیث میں حرکت سے مراد ہاتھ اٹھانا ہے ، اب اپنی مثال پر آئے کسی کو کہا جائے کہ’’ گھر میں‘‘ داخل ہوجاؤ اور’’گھر میں‘‘ ہاتھ مت اٹھانا پھر اگر وہ گھر کے ابتدائی حصہ میں ہاتھ اٹھائے تو کیا وہ ممنوعہ فعل کا مرتکب ہوگا کہ نہیں۔

تحریر آفتاب:
جب کسی چیز سے مثال دی جاتی ہے تو اس کہ یہ مطلب نہیں کہ وہ چیز ہو بہو ویسے ہی ہو گی۔

یہ سب کو پتہ لیکن وجہ مماثلت میں تو یکسانیت ہونی چاہئے، لیکن آپ کی مثال میں یہ مفقود ہے۔

تحریر آفتاب:
قرآن میں منافقین کے اعمال کی ایک مثال آگ جلانے والے سے دی گئی اس کی مذید تفصیل آپ تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں تو کیا منافقین کے لئیے سردیاں اچھی ہوتی ہیں اور معاذ اللہ ہر ایک کو سردیوں میں منافق ہوجانا چاہئیے۔

اولا:

وضاحت کی جاچکی ہے۔

ثانیا :

آپ کی یہ نئی مثال بھی بے محل ہے۔

تحریر آفتاب:
ٹرین والی اس مثال سے بتانا مقصود ہے کہ ہر عمل کے ابتدائی بیچ اور آخری حصہ کی کیفیت الگ ہوتی ہے۔

اولا:

یہاں یہ بحث نہیں ہے کیفیت الگ الگ ہے بلکہ بحث یہ ہے کہ یہ تمام کیفیت نماز میں شامل ہے یا نہیں ۔

ثانیا:

آپ نے مثال میں ٹرین کی رفتار کی کمی وزیادتی سے استدلال کیا تھا جب کہ نماز میں اس رفتار کا کوئی وجود نہیں ۔

تحریر آفتاب:
وتر کا رفع الیدین اس سے مستثنی ہے
عَنْ عَبْدِ اللہِ بن مسعود –رضي اللہ عنہ- : (( أَنّہُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْہِ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ ))(رواه ابن أبي شيبہ (2/307) ، والبخاري في جزء رفع اليدين (91) ، وابن المنذر في الاوسط رقم (2671) ، والبيہقي في سننہ رقم (5062)
وتر کے رفع الیدین کے اثبات میں صحیح حدیث موجود ہے لیکن ترک میں کوئی صحیح حدیث میرے ناقص عمل کس مطابق نہیں تو یہ رفع الیدن کیا جائے گا ۔ اسکنوا في الصلاہ عام حکم ہے لیکن وتر کا استثناء حدیث میں مزکور ہے تو وتر میں رفع الیدین کیا جائے گا۔

چلئے آپ نے یہ تسلیم کرلیا کہ اس حکم سے استثنا ء بھی ہوسکتا ہے پھر تو سارامعاملہ ختم کیونکہ رکوع والے رفع الیدین کا استثناء بھی موجود ہے ، حدیث پہلے پیش کی جاچکی ہے۔

تحریر سنابلی:
ثالثا:
محترم بھائی ! نماز میں رفع الیدین کرنا کیا ٹرین سے چھلانگ لگانے کی طرح ہے ، ابتسامہ مع استغفراللہ ۔
بھائی جی ٹرین سے چھلانگ لگانے کے بعد آدمی ٹرین سے الگ ہوجاتا ہے تو کیا آپ حضرات بھی پہلا رفع الیدین کرکے نماز سے الگ ہوجاتے ہیں ۔
تحریر آفتاب
میں بتاچکا ہوں کہ مثال کیوں پیش کی۔ اس کا جواب اوپر آچکا ہے۔

اولا:

میرے اس سوال کاجواب کہاں ہے کہ کیا آپ حضرات بھی پہلا رفع الیدین کرکے نماز سے الگ ہوجاتے ہیں ۔

ثانیا:

یہ بھی بتائیں کہ تکبرتحریمہ ولارفع الیدن ’’نماز میں‘‘ شامل ہے یا نہیں ؟ یاد رہے کہ مسلم کی حدیث میں ’’فی الصلاۃ ‘‘ کے الفاظ ہیں نہ کہ ’’فی وسط الصلاۃ ‘‘ کے الفاظ۔

تحریر آفتاب:
اگر دو الگ واقعات کے بیان میں ایک جیسے الفاظ ہوں تو آپ کے نزدیک وہ ایک واقعہ ہے۔ یہ عجیب دلیل سنی میں نے۔

یہ عجیب سمجھ ہے میں نے کہاں کہا ہے یہ دونوں ایک ہی واقعہ ہے میں نے بحث کو مختصر کرنے کے لئے بطور تنزل یہ کہہ رکھا ہے اگر دو واقعہ مان لیں تب بھی دوسرے واقعہ سے پہلے واقعہ کی توضیح ہوجاتی ہے، کیونکہ دونوں واقعات کی اصل نوعیت ایک ہی ہے، میری پوری بات پھر سے پڑھیں، اس کے بعد کچھ لکھیں۔

تحریر آفتاب:
اگر آپ یہ کہتے تو زیادہ بہتر تھا کہ یہ احتمال ہے کہ دونوں حدیثیں سلام کے وقت والے رفع الیدین کی نہیں ہیں

ابھی تک صرف پہلی حدیث سلام سے متعلق یہ احتمال تھا کہ وہ سلام سے متعلق نہیں ہے اب دوسری حدیث سے متعلق بھی یہی کہا جانے لگا کہ اس کے سلام سے متعلق ہونے میں احتمال ہے۔ نصوص سے روگردانی کی یہ بہت بڑی مثال ہے کیونکہ دوسری حدیث میں بوقت سلام کی صراحت موجودہے اورکسی چیز کے صراحت مذکور ہونے کے بعد بھی اس کے عدم پر احتمال پیش کرنا معلوم نہیں کہاں کی سمجھ ہے۔

تحریر آفتاب:
امام بخاری 194 ہجری میں پیدا ہوئے اور امام یحیی بن معین 157 ہجری میں پیدا ہوئے ۔ امام یحیی بن معین کا قول امام بخاری تک کیسے پہنچا ۔ سند بتائیے ۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
آپ نے یہ سوال کرکے میرے خیال سے سب کو حیران کردیا ہے ، خط کشیدہ الفاظ پر دھیان دیں ، آپ نے دو اماموں کی تاریخ پیدا ئش الگ الگ پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ان دونوں کا زمانہ الگ الگ ہے؟؟؟
بھائی میں نے جتنے بھی اساتذہ سے کچھ سیکھا ہے سب کی تاریخ پیدائش میری تاریخ پیدائش سے الگ ہے تو کیا یہ بات پیش کرکے کہاجا سکتا ہے مجھ تک میرے اساتذہ کی تعلیمات کیسے پہنچیں؟؟؟
محترم بھائی ! امام یحیی بن معین امام بخاری کے استاذ ہیں اس میں کسی کا اختلاف نہیں ،پھر یہ مطالبہ کرنا کہ امام یحیی بن معین کا قول امام بخاری تک کیسے پہنچا ۔ سند بتائیے ۔ بہت ہی حیران کن ہے، آپ صرف صحیح بخاری دیکھ لیتے تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ امام یحیی بن معین سے امام بخاری کا سماع ثابت ہے یہ لیں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
امام بخاری نے رحمہ اللہ نے خود کہہ رکھا ہے کہ میں نے یحیی بن معین سے سنا بخاری میں ہے:
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ
[صحيح البخاري 2/ 145]
صحیح بخاری ہی میں امام بخاری فرماتے ہیں :
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَصَدَقَةُ، قَالاَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ»
[صحيح البخاري 5/ 26 رقم 3751 ]
اس کے علاوہ متعدد ایسی سندیں پیش کی جاسکتی ہیں جن میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے استاذ یحیی بن معین سے تحدیث وسماع کے صیغہ سے روایت کیا ہے۔

تحریر آفتاب:
یہاں امام احمد کا باطل کہنا جرح مفسر نہیں ۔ کیوں انہوں نے باطل کہنے کی وجہ بیان نہیں کی ۔

امام احمد رحمہ اللہ کا پورا کلام یہ ہے :
رواه أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، عن ابن عمر، وهو باطل.
یعنی امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہنے سے پہلے اس کی متغیر سند پیش کی ہے یعنی سند کے اس سیاق کوباطل کہا ہے کیونکہ ابوبکر بن عیاش پہلے اسی روایت کو دوسرے انداز سے روایت کرتے تھے مگر اس سیاق میں ان سے وہم ہوا ہے اسی کو امام احمد رحمہ اللہ نے باطل کہا ہے۔

تحریر آفتاب:
میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اس روایت کو جرح مفسر کے ساتھ بیان کرنے والے تین محدثین کے اقوال نقل کریں۔

یہ سوال آپ تب کریں جب کم از کم دو ائمہ ناقدین سے تعدیل مفسرثابت کردیں۔

تحریر آفتاب:
مزید کیا ان راویوں میں کوئی ضعیف ہے ؟ کیا یہ بخاری کے راوی نہیں ؟

وہم ، شذوذ اورتدلیس کی بات ہو تو راوی کے ثقہ ہونے اوربخاری میں ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے ، یہ عام اصول ہے معلوم نہیں کیونکہ آپ نظرپوشی کررہے ہیں ۔

تحریر آفتاب
اور دوسری روایت میں اسود کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی اور انہوں نے صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کیااس کا مطلب ہے عبداللہ بن عمر رفع الیدین ترک کرجکے تھے
تحریر سنابلی
یہ روایت میں کافی کوشش کے باوجود بھی مصنف ابن ابی شیبہ میں تلاش نہیں کرسکا اگر آپ الفاظ مع حوالہ نقل کردیں توبڑی مہربانی ہوگی۔

آپ نے میری اس بات کا جوا ب نہیں دیا !!!

تحریر آفتاب:
ہم مذاق نہیں اڑاتے صرف حدیث کے الفاظ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ کا ترجمہ کرتے ہیں

رفع الیدین جیسی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے والوں پر منطبق کرتے ہوئے اس حدیث کا ترجمہ کرنا بھی کسی گستاخی سے کم نہیں ہے احناف سمیت پوری امت مسلمہ کو یہ تسلیم ہے کہ رکوع والے رفع الیدین پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عمل کیا ہے تو کیا جب جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سنت پر عمل کیا ہے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر بھی یہ الفاظ منطبق ہوں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

تحریر سنابلی
برابھلا تو دور کی بات ہے ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ رفع الیدین کرنے والوں کو قتل تک کی دھمکی دی گئی ہے۔
تحریرآفتاب
ثبوت بیش کریں ۔ اورکسی شخص کے انفرادی عمل کو پوری جماعت پر چپپاں نہ کریں۔

ابن العربي المالكي فرماتے ہیں:
ولقد كان شيخنا أبو بكر الفهري يرفع يديه عند الركوع، وعند رفع رأسه منه، فحضر عندي يوماً بمحرس ابن الشوّاء بالثّغر، موضع تدريسي عند صلاة الظهر، ودخل المسجد من المحرس المذكور، فتقدّم إلى الصف الأول، وأنا في مؤخره قاعد على طاقات البحر، اتنسم الرّيح من شدّة الحر، ومعه في صف واحد أبو ثمنة رئيس البحر وقائده مع نفرٍ من أصحابه، ينتظر الصلاة.فلما رفع الشيخ يديه في الركوع وفي رفع الرأس منه، قال أبو ثمنة لأصحابه: ألا ترون إلى هذا المشرقي، كيف دخل مسجدنا؟! فقوموا إليه فاقتلوه، وارموا به البحر، فلا يّراكم أحد. فطار قلبي من بين جوانحي، وقلت: سبحان الله هذا الطُّرطُوشي، فقيه الوقت!!فقالوا لي: ولم يرفع يديه؟ فقلت: كذلك كان النبي – صلى الله عليه وسلم – يفعل، وهو مذهب مالك في رواية أهل المدنية عنه ، وجعلت أسكنهم وأسكتهم حتى فرغ من صلاته، وقمت معه إلى المسكن من المحرس، ورأى تغير وجهي فأنكره، وسألني، فأعلمتُه، فضحك، وقال: من أين لي أن أقتل على سنة؟ فقلت له: لا يحل لك هذا، فإنك بين قومٍ إن قمت بها قاموا عليك، وربما ذهب دمك! فقال: دع هذا الكلام، وخذ في غيره
اور ہمارے شیخ ابو بکر الفہری (الطرطوشی) رکوع کے وقت اور اس سے سر اٹھاتے وقت اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے۔
ایک دن وہ میرے پاس محرس ابن الشوّاء (ثغر یعنی ساحلی علاقے) میں آئے، جہاں میں ظہر کی نماز کے وقت درس دے رہا تھا۔ وہ اسی محرس سے مسجد میں داخل ہوئے اور صفِ اوّل میں آگے بڑھ گئے۔ میں پیچھے بیٹھا ہوا تھا، سمندر کی طرف کھڑکیوں (طاقات) پر، شدید گرمی کی وجہ سے ہوا لے رہا تھا۔
ان کے ساتھ ایک ہی صف میں ابو ثمنہ (بحریہ کا سردار اور کمانڈر) تھا اور اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی، جو نماز کا انتظار کر رہے تھے۔
جب شیخ نے رکوع میں اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھائے تو ابو ثمنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
“کیا تم اس مشرقی کو نہیں دیکھتے کہ وہ ہماری مسجد میں کیسے داخل ہوا ہے؟! اٹھو، اس کی طرف جاؤ، اسے قتل کر دو اور اسے سمندر میں پھینک دو، کوئی تمہیں نہیں دیکھے گا۔”
میرا دل (خوف سے) سینے سے اچھل پڑا، اور میں نے (دل ہی دل میں) کہا: سبحان اللہ! یہ تو طرطوشی ہے، زمانے کا فقیہ!!
لوگوں نے مجھ سے پوچھا: “کیا اس نے ہاتھ اٹھائے اس لیے؟”
میں نے کہا: “جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے، اور یہ امام مالک کا مذہب ہے جو اہل مدینہ کی روایت میں ان سے منقول ہے۔”
میں نے انہیں منانا اور خاموش کرانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے۔
پھر میں ان کے ساتھ محرس سے گھر کی طرف چلا گیا۔ انہوں نے میرا چہرہ بدلا ہوا دیکھا تو اسے ناگوار جانا اور مجھ سے پوچھا۔
میں نے ساری بات بتا دی۔
وہ ہنس پڑے اور بولے:
“مجھے کہاں سے ملے گا کہ میں ایک سنت پر قتل کیا جاؤں؟”
میں نے کہا: “یہ آپ کے لیے جائز نہیں، کیونکہ آپ ایسے لوگوں کے درمیان ہیں کہ اگر آپ اس سنت پر قائم رہے تو وہ آپ پر حملہ آور ہو جائیں گے، اور شاید آپ کا خون بہہ جائے!”
انہوں نے کہا:
“یہ باتیں چھوڑو، اور کوئی اور بات کرو۔”
یہ واقعہ فقهی اختلافات (جیسے رکوع میں ہاتھ اٹھانا) کے ساتھ لوگوں کی جاہلیت اور تعصب کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، اور امام طرطوشی کی ہمت اور سنت پر استقامت کی مثال ہے۔
[أحكام القرآن: (4/1900) . ونقلها عنه: القرطبي في ((التفسير)) : (19/ 279) والشاطبي في ((الاعتصام)) : (1/295) . ]

باقی حصہ پڑھنے کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں
ترک رفع الیدین پر مباحثہ (حصہ دوم)

حوالہ : اس مباحثہ کو اس کے اصل سورس یعنی محدث فورم پریہاں اور یہاں جاکر پڑھ سکتے ہیں ۔